ڈونلڈ ٹرمپ نے ورلڈ کپ مسافروں کے لیے ’فیفا پاس‘ متعارف کرنے کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اگلے سال ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ کے سلسلے میں امریکا کا سفر کرنے والے غیر ملکی شائقین کے لیے نیا اقدامات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت انہیں ویزا انٹرویوز تیزی سے حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
اس نئے نظام کو فیفا پاس کا نام دیا گیا ہے، جو پرائیرٹائزڈ اپوائنٹمنٹ شیڈولنگ سسٹم کا مخفف ہے۔ اس کے تحت وہ افراد جنہوں نے فیفا کے ذریعے ورلڈ کپ کے ٹکٹ خریدے ہیں، امریکا کے ویزا انٹرویوز کے لیے ترجیحی وقت حاصل کرسکیں گے۔ اس اقدام کا مقصد ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسی اور عالمی مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’پاکستان میں فٹبال کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون کریں گے‘، فیفا نائب صدر کا اعلان
فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو، جو پیر کے روز ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے لیے موجود تھے، نے کہا کہ اگر آپ کے پاس ورلڈ کپ کا ٹکٹ ہے تو آپ کو ویزا کے لیے ترجیحی اپوائنٹمنٹ ملے گی۔ انہوں نے ٹرمپ کی جانب دیکھ کر مزید کہا کہ جناب صدر، آپ نے پہلی ملاقات میں ہی کہا تھا کہ امریکا دنیا کا خیرمقدم کرتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ ورلڈ کپ کے شائقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ فوراً اپنے ویزوں کے لیے درخواست دیں۔
یہ بھی پڑھیے: فیفا ورلڈ کپ 2026 کے لیے ٹکٹس کی فروخت کا آج سے آغاز، اس بار قیمتیں کیا رکھی گئیں؟
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق، بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے دنیا بھر میں 400 سے زیادہ اضافی قونصلر افسر تعینات کیے جا رہے ہیں۔ روبیو نے بتایا کہ دنیا کے تقریباً 80 فیصد حصوں میں مسافر 60 دن کے اندر ویزا انٹرویو حاصل کر سکتے ہیں۔
نئے نظام کے تحت، فیفا کے ٹکٹ ہولڈرز کو ایک فیفا پورٹل فراہم کیا جائے گا، جس کے ذریعے ان کی ویزا درخواست اور انٹرویو کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا۔
روبیو نے واضح کیا کہ ویٹنگ وہی ہوگی جو سب کے لیے ہوتی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ ہم انہیں قطار میں اوپر لے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی فٹ بال ٹیم کی بڑی کامیابی، فیفا ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی کرلیا
آئندہ سال کا ورلڈ کپ کینیڈا، میکسیکو اور امریکا میں مجموعی طور پر 104 میچوں پر مشتمل ہوگا۔ ٹرمپ اس ٹورنامنٹ کو اپنی انتظامیہ کی بڑی ترجیحات میں شمار کرتے ہیں، اور انفانٹینو بارہا وائٹ ہاؤس کا دورہ کر چکے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر ہمیں کسی بھی طرح کے مسائل کا خدشہ ہوا تو میں جیانی سے کہوں گا کہ میچ کسی اور شہر منتقل کریں۔
فیفا صدر انفانٹینو نے براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ایک کامیاب ورلڈ کپ کے لیے تحفظ اور سلامتی سب سے اہم ہے، اب تک فروخت ہونے والے ٹکٹ اس بات کا ثبوت ہیں کہ لوگ امریکا پر بھروسہ کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈونلڈ ٹرمپ فٹ بال فیفا ویزا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ فٹ بال فیفا ویزا ورلڈ کپ کے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔
اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔
جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔
فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔
جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔