واٹس ایپ کا خفیہ فیچر جو نمبر محفوظ کیے بغیر پیغام بھیجنے کی سہولت دیتا ہے
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واٹس ایپ کے صارفین کو اکثر اس صورتحال کا سامنا رہتا ہے کہ کسی کورئیر رائیڈر، کیب ڈرائیور یا ایسے شخص کو میسج کرنا پڑ جائے جس سے دوبارہ رابطے کا امکان نہ ہو، مگر پلیٹ فارم کی جانب سے پہلے اس کا نمبر فون بک میں محفوظ کرنے کی ہدایت سامنے آ جاتی ہے۔ یہی پابندی صارفین کے لیے سب سے بڑی الجھن ہے، کیوں کہ دیگر میسجنگ ایپس میں بغیر نمبر سیو کیے بات چیت ممکن ہوتی ہے، جبکہ واٹس ایپ فون بک کو غیر ضروری نمبروں سے بھر دیتا ہے۔
تاہم واٹس ایپ نے اس مسئلے کا حل پہلے ہی متعارف کرا رکھا ہے، مگر بیشتر صارفین کو اس کا علم نہیں۔ “کلک ٹو چیٹ” نامی فیچر کے ذریعے آپ بغیر نمبر محفوظ کیے کسی بھی شخص کو براہِ راست میسج بھیج سکتے ہیں، اور یہ سہولت موبائل ایپ کے ساتھ ساتھ واٹس ایپ ویب پر بھی یکساں طور پر کام کرتی ہے۔
یہ فیچر دراصل ایک لنک کے ذریعے کام کرتا ہے جسے کھولتے ہی متعلقہ فرد کے نمبر سے منسلک چیٹ ونڈو کھل جاتی ہے، یوں نہ نمبر محفوظ کرنے کی ضرورت رہتی ہے اور نہ ہی اضافی طریقہ کار اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ واٹس ایپ کا اپنا فیچر ہے جس کے لیے کسی تھرڈ پارٹی ٹول کی ضرورت نہیں پڑتی۔
اسے استعمال کرنے کے لیے صارف کو صرف اس نمبر کا پورا فارمیٹ درکار ہوتا ہے، جسے وہ میسج کرنا چاہتا ہے۔ نمبر کے شروع میں کنٹری کوڈ لکھا جاتا ہے، مگر درمیان میں کوئی اسپیس، ڈیش یا بریکٹ شامل نہیں کی جاتی۔ مثال کے طور پر +92 کے بجائے 92 لکھا جائے گا، جس کے بعد پورا نمبر شامل کیا جاتا ہے۔
کنٹری کوڈ اور نمبر سے پہلے محض https://wa.
me/ لکھ کر سلیش کے بعد نمبر ڈالیں، مثلاً:
https://wa.me/92xxxxxxxxxx
اس لنک کو چیٹ میں محفوظ رکھ کر ضرورت پڑنے پر نئے نمبر کے ساتھ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ لنک کھولتے ہی واٹس ایپ خودکار طور پر متعلقہ چیٹ ونڈو کھول دے گا، جس کے بعد صارف بلا جھجھک میسج کر سکے گا۔
یہ فیچر اُن صارفین کے لیے نہایت مؤثر ہے جو بار بار غیر متعلقہ نمبرز فون بک میں شامل کرنے سے پریشان رہتے ہیں اور اپنی فہرست کو غیر ضروری رابطوں سے بچانا چاہتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔