میٹا کی نئی سہولت، صارفین واٹس ایپ، انسٹاگرام اور فیسبک پر ایک ہی یوزرنیم استعمال کرسکیں گے
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
واٹس ایپ جلد ایسا فیچر متعارف کرانے جا رہا ہے جس کے تحت صارفین میٹا کی مختلف ایپس پر ایک جیسے یوزرنیم حاصل کرسکیں گے
واٹس ایپ آئندہ سال اپنا طویل عرصے سے زیرِ بحث یوزرنیم فیچر متعارف کرانے والا ہے، جس کے بعد صارفین اپنا فون نمبر شیئر کیے بغیر صرف یوزرنیم کے ذریعے رابطہ کر سکیں گے۔ یہ فیچر صارفین کو فیس بک یا انسٹاگرام پر موجود اپنے یوزرنیم کے مطابق واٹس ایپ پر بھی وہی ہینڈل حاصل کرنے کی سہولت دے گا، جس سے میٹا پلیٹ فارمز پر یکساں شناخت برقرار رکھنا ممکن ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ نے یورپی ممالک میں تھرڈ پارٹی چیٹ انٹیگریشن متعارف کروا دی
رپورٹس کے مطابق واٹس ایپ ایک ریزرویشن آپشن بھی دے گا جس کے ذریعے صارفین عام دستیابی سے پہلے اپنا پسندیدہ یوزرنیم محفوظ کرسکیں گے۔ یوزرنیم ریزرو کرنے کے لیے میٹا اکاؤنٹ سینٹر کے ذریعے ویری فکیشن ضروری ہوگی۔ ایک بار ریزرو ہونے کے بعد وہ مخصوص ہینڈل دوسرے صارفین کے لیے دستیاب نہیں رہے گا، یوں ابتدائی صارفین کو واضح ترجیح مل جائے گی۔
ریزروریشن پیریڈ ختم ہونے کے بعد تمام صارفین واٹس ایپ کے قواعد کے مطابق یوزرنیم بنا اور حاصل کر سکیں گے۔ ان اصولوں کے تحت یوزرنیم www سے شروع نہیں ہوسکتا، کم از کم ایک حرف لازمی ہونا چاہیے، صرف چھوٹے حروف، نمبرز، ڈاٹس اور انڈراسکور شامل ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ کا نیا فیچر متعارف، اب ہر کوئی آپ کو براہِ راست میسج نہیں بھیج سکے گا
یوزرنیم نہ ڈاٹ سے شروع ہو سکتا ہے اور نہ ہی اسی پر ختم، نہ ڈاٹ کام یا ڈاٹ نیٹ جیسے ڈومین پر مشتمل ہو سکتا ہے، جبکہ اس کی لمبائی 3 سے 30 حروف تک ہو سکتی ہے۔
یہ نیا فیچر فون نمبر شیئر کرنے کے دیرینہ مسئلے کا حل پیش کرتا ہے اور صارفین کو زیادہ سہل اور محفوظ رابطے کا طریقہ فراہم کرے گا۔ انسٹاگرام کے مشہور انفلوئنسرز اور فیس بک پر مضبوط شناخت رکھنے والے صارفین بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے، کیونکہ اب وہ تمام پلیٹ فارمز پر ایک جیسی شناخت برقرار رکھ سکیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسٹاگرام فیسبک میٹا واٹس ایپ یوزرنیم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انسٹاگرام فیسبک میٹا واٹس ایپ یوزرنیم واٹس ایپ سکیں گے
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔