اوپن اے آئی کا نیا قدم: چیٹ جی پی ٹی میں گروپ میسجنگ فیچر متعارف
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی کو صرف ایک اے آئی چیٹ بوٹ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے بتدریج ایک مکمل سوشل پلیٹ فارم کی شکل دینے کی جانب بڑھا دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اوپن اے آئی نے گروپ میسجنگ فیچر متعارف کرا دیا ہے، جس کے بعد صارفین اب صرف ون آن ون چیٹ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ کئی لوگ ایک ہی گفتگو کا حصہ بن سکیں گے اور اس دوران اے آئی ایک گائیڈ کے طور پر گفتگو کو منظم بھی کرے گی۔
یہ اوپن اے آئی کا اپنی نوعیت کا پہلا فیچر ہے جس کا مقصد دفتری ٹیموں، دوستوں اور خاندانوں کو مل کر کام کرنے یا رابطے میں رہنے کا نیا طریقہ فراہم کرنا ہے۔ فی الحال یہ فیچر صرف جاپان، نیوزی لینڈ، جنوبی کوریا اور تائیوان میں فعال کیا گیا ہے، تاہم کمپنی نے عندیہ دیا ہے کہ آنے والے چند ماہ میں اسے دنیا بھر میں متعارف کرا دیا جائے گا۔
نومبر 2022 سے اب تک چیٹ جی پی ٹی زیادہ تر انفرادی استعمال پر مبنی رہا، مگر اب اسے سوشل میڈیا جیسا تجربہ دینے کی تیاری شروع ہوچکی ہے۔ ڈائریکٹ میسجنگ کے اضافے سے پلیٹ فارم کا استعمال یکسر بدل جائے گا، کیونکہ صارفین اب نہ صرف اے آئی کے ساتھ گفتگو کریں گے بلکہ اپنے کام اور رابطے بھی اسی پلیٹ فارم کے ذریعے انجام دے سکیں گے۔
گروپ چیٹس میں 20 افراد تک شامل ہوسکیں گے، جبکہ ان ہی گروپس کے اندر نجی ون آن ون چیٹس کا آپشن بھی موجود ہوگا، جنہیں دوسرے ممبرز نہیں دیکھ سکیں گے۔ ہر صارف کی اپنی پروفائل، یوزر نیم اور تصویر ہوگی تاکہ پیغامات کی شناخت آسان رہے، جبکہ میسجز پر ایموجیز کے ذریعے ردِ عمل دینے کی سہولت بھی ہوگی۔
ایڈمن گروپ ممبرز کو کنٹرول کرے گا، اور صارفین چاہیں تو نوٹیفکیشنز میوٹ کر سکتے ہیں یا چیٹ کا نام بھی تبدیل کرسکتے ہیں۔ یہ نیا فیچر جی پی ٹی 5.
اہم بات یہ ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے بڑے ٹولز—جیسے ویب سرچ، امیج جنریشن، اپ لوڈز، فائل شیئرنگ اور دیگر سروسز—گروپ چیٹس کے اندر بھی دستیاب ہوں گی، جس سے یہ فیچر عام سوشل میسجنگ ایپس کا بھرپور متبادل بن سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی اے آئی
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔