ویلفیئر بورڈ نے نصف صدی میں اربوں روپے میں صرف 10 ہزار فلیٹس بنائے: سعید غنی
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
کراچی (نیوزڈیسک) وزیرِ محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ 50 سال میں ویلفیئر بورڈ کے تحت اربوں روپے خرچ کر کے صرف 10 ہزار فلیٹس بنا سکے۔
کراچی میں تقریب سے خطاب میں سعید غنی نے کہا کہ زمین کی خریداری میں کرپشن، تعمیر میں کرپشن، الاٹمنٹ اور مرمت میں بھی کرپشن ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنے افسران کو کہتے ہیں کہ ہم پرو لیبر اور پرو ورکر ہیں، آج بھی خود کو ٹریڈ یونین ورکر سمجھتا ہوں، اللّٰہ نے اس مقام پر پہنچایا کہ آج وزیر ہوں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ تمام نجی اداروں کے ملازمین کو سوشل سیکیورٹی نیٹ میں شامل کرنا چاہتے ہیں تاکہ ملازمین کے بچوں کو مفت تعلیم اور والدین کو مفت علاج فراہم کیا جا سکے۔
سعید غنی نے تسلیم کیا کہ ویلفیئر بورڈ کے تحت مزدوروں کے لیے فلیٹس بنانے میں کرپشن ہوتی ہے، میں نے تو یہاں تک کہا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ سے ہاؤسنگ کو نکال دیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ یہ پیسے تعلیم اور صحت پر لگاتے تو لاکھوں مزدوروں کا معیارِ زندگی بہتر بنا چکے ہوتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔