ڈاکٹر مالک بلوچ کی جماعت لگتا نہیں کہ ووٹ دے گی، وزیراعلیٰ بلوچستان
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک)وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر مالک بلوچ کی جماعت لگتا نہیں کہ ووٹ دے گی، قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے اور وہ اپنا کام کر رہی ہے۔
پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کی نشستوں کے حوالے سے ہماری ای سی سی میں چیئرمین سے تفصیلی گفتگو ہوئی، 27ویں ترمیم میں دو اہم ترامیم ہو رہی ہیں اس لیے توجہ اس پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنازع اگر بات چیت سے حل ہوں تو اچھی بات ہے لیکن کسی بھی دہشتگرد کا ہاتھ اگر معصوم کے خون سے رنگا ہوا ہے تو چاہے وہ کسی بھی نسل سے ہو تو اس کی مذمت ہونی چاہیے۔
میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کے حوالے سے حکومتی پالیسی پر بلوچستان میں عمل درآمد ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی چیئرمین سینیٹ سے ملاقات کے لیے پارلیمنت پہنچے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سرفراز بگٹی
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔