سی ڈی اے میں تقرری و تبادلے کی تازہ ہوا چل پڑی، کس کس کو کون کونسا عہدہ ملے گیا،، دستاویزسب نیوزپر
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
سی ڈی اے میں تقرری و تبادلے کی تازہ ہوا چل پڑی، کس کس کو کون کونسا عہدہ ملے گیا،، دستاویزسب نیوزپر WhatsAppFacebookTwitter 0 10 November, 2025 سب نیوز
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآئینی ترمیم کی سینیٹ سے شق وار منظوری جاری، اپوزیشن کا شور شرابہ،اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا آئینی ترمیم کی سینیٹ سے شق وار منظوری جاری، اپوزیشن کا شور شرابہ،اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا سی ڈی اے میں افسران اور ملازمین کی اکھاڑ بچھاڑ جاری،مزید 20فارغ آئینی ترمیم،جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،ایگزیکٹیو سے رابطے کا مطالبہ آئینی ترمیم کی منظوری،وزیر داخلہ محسن نقوی غیر معمولی طور پر متحرک،اہم ملاقاتیں آئینی ترمیم کی منظوری : نمبر گیم پوری کرنے کیلئے حکومت نے پلان بی پر کام شروع کردیا،اپوزیشن کے4ممبران سے رابطوں کا انکشاف فخر ہے کہ اس ملک کو ایسے وزیراعظم ملے جو خود کو احتساب کے لیے پیش کرتے ہیں: ایمل ولی خانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔