جس نے شاہزیب خانزادہ کو ہراساں کیا ریاست اس شخص کو ٹریس کر کے کارروائی کرے گی، عطا اللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے صحافیوں کو درپیش بڑھتی ہوئی دھمکیوں اور ہراسمنٹ کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں اور ان کے خاندانوں کے نام و پتے سوشل میڈیا پر شیئر کرنا اور ان کے خلاف قتل پر اکسانا انتہائی مذموم حرکت ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
جیو نیوز کے پروگرام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح مزمل صاحب کے گھر میں گھس کر دھمکیاں دی گئیں اور شاہزیب خانزادہ کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ہوا، وہ شدید قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی شہری، خصوصاً صحافی، کو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سفر کے دوران ہراساں کرنا جرم ہے اور ریاست اس کے خلاف ایکشن لے گی۔
بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل انیل چوہان نے اپنے ہی ملک کی دفاعی صنعت پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا
عطا اللہ تارڑ نے یقین دلایا کہ حکومت مکمل طور پر صحافیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کے مطابق ریاست اس شخص کو ٹریس کرے گی جس نے شاہزیب خانزادہ کے ساتھ ہراسمنٹ کی، اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ آزادیٔ اظہار اور آزاد صحافت جمہوری معاشرے کی بنیاد ہیں، اور حکومت صحافیوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کے ساتھ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔