دبئی میں پہلی فلائنگ ٹیکسی نے کامیاب آزمائش مکمل کرلی
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دبئی: متحدہ عرب امارات نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اور سنگ میل عبور کر لیا ہے، جہاں اڑنے والی ٹیکسی کی پہلی آزمائشی پرواز کامیابی کے ساتھ مکمل کر لی گئی۔
یہ پرواز جدید ٹیکنالوجی اور ماحول دوست توانائی کے استعمال کی ایک نئی مثال ہے، جس سے دبئی کی اسمارٹ سٹی منصوبے کی رفتار مزید تیز ہونے کی توقع ہے۔
تفصیلات کے مطابق ائیر ٹیکسی نے صحرائی علاقے مرغم سے اُڑان بھری اور دبئی کے المکتوم ائیرپورٹ تک کامیابی سے پرواز مکمل کی۔ اماراتی حکام کے مطابق یہ الیکٹرک ائیر ٹیکسی 320 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑان بھرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس میں 4 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ مکمل طور پر ماحول دوست ہے اور روایتی ہوائی جہازوں کے مقابلے میں نہایت کم شور پیدا کرے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ دبئی میں ائیر ٹیکسی سروس 2026 تک عوام کے لیے باقاعدہ شروع کر دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے شہری علاقوں میں مزید تجرباتی پروازوں کا شیڈول تیار کر لیا گیا ہے۔ اسکائی پورٹس کمپنی دبئی انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے قریب پہلا ائیر ٹیکسی اسٹیشن تعمیر کر رہی ہے، جو اس انقلابی ٹرانسپورٹ نظام کا مرکزی مرکز ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ائیر ٹیکسی
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔