گلگت میں امن کانفرنس، شیعہ سنی علماء کی شرکت، امن، بھائی چارے پر زور
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
اعلامیے میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ مذہبی منافرت اور سوشل میڈیا پر اشتعال پھیلانے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان (فدا حسین گروپ) کے زیر اہتمام امن کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں شیعہ اور سنی مکاتبِ فکر کے سینئر علمائے کرام نے شرکت کی۔ کانفرنس میں شریک علمائے کرام میں شیخ کرامت حسین نجفی، نادر اشرفی، شیخ ساجد علی ساجدی (صدر ہیت آئمہ نگر)، دیامر کے سرپرستِ علمائے کرام مولانا مزمل شاہ، ہیت آئمہ شیعہ علماء گلگت بلتستان کے صدر شیخ شرافت ولایتی، استور علماء کے صدر مولانا سمیع، عبد العلیم مصطفوی اور دیگر علمائے کرام شامل تھے۔ کانفرنس کے اختتام پر اتحاد، رواداری اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کے لیے متفقہ اعلامیہ منظور کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ملک اور خطے میں امن، بھائی چارے اور برداشت کا ماحول قائم کرنا تمام مکاتبِ فکر کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ فرقہ وارانہ منافرت، اشتعال انگیزی اور نفرت انگیز طرزِ گفتگو کی ہر شکل قابلِ مذمت قرار دی گئی، جبکہ تمام مکاتبِ فکر کے مقدسات کے احترام کو لازمی قرار دیا گیا۔
اعلامیے میں علمائے کرام نے نوجوانوں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا کو ذمہ داری اور اخلاقی اصولوں کے مطابق استعمال کریں، غیر مصدقہ، نفرت انگیز اور اشتعال پھیلانے والے مواد سے مکمل گریز کریں، اور آن لائن پلیٹ فارمز کو امن، علم اور بھائی چارے کے فروغ کا ذریعہ بنائیں۔ مشترکہ اعلامیہ میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مختلف مکاتبِ فکر کے علمائے کرام آئندہ بھی مشترکہ نشستیں، مکالمے اور پروگرام جاری رکھیں گے تاکہ باہمی احترام اور ہم آہنگی مزید مضبوط ہو سکے۔ مذہبی اجتماعات میں بھی امن، رواداری اور یکجہتی کے پیغام کو ترجیح دی جائے گی۔ نوجوان نسل کو مخاطب کرتے ہوئے علمائے کرام نے کہا کہ وہ علم، اخلاق اور اتحاد کو اپنا شعار بنائیں اور فرقہ وارانہ اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک متحد اور پرامن قوم کے طور پر کردار ادا کریں۔
اعلامیے میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ مذہبی منافرت اور سوشل میڈیا پر اشتعال پھیلانے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ فیک آئی ڈیز، گروپس اور صفحات کے ذریعے نفرت پھیلانے والوں کے خلاف فوری کارروائی بھی مطالبات میں شامل تھی۔ علمائے کرام نے عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین فدا حسین اور ان کی ٹیم کی خطے میں امن، رواداری اور بھائی چارگی کے لیے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور عہد کیا کہ وہ مستقبل میں بھی عوامی حقوق اور امن کے لیے ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ اعلامیے میں تمام سیاسی و سماجی جماعتوں سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ سیاست سے بالاتر ہوکر خطے میں امن اور بھائی چارگی کے فروغ کے لیے موثر کردار ادا کریں۔ آخر میں علمائے کرام نے دعا کی کہ اللہ تعالی اس اجتماعی کوشش کو اتحادِ امت، خطے کے امن اور معاشرتی استحکام کا ذریعہ بنائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اعلامیے میں کیا گیا گیا کہ کے لیے
پڑھیں:
علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
اسلام ٹائمز: موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔ تحریر: عبداللہ البحرانی
مملکتِ بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کے اقدامات میں نمایاں شدت آ گئی ہے، جو وسیع پیمانے پر گرفتاریوں، شہریت کی منسوخی اور مذہبی شعائر پر پابندیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ مرآۃ البحرین کے حوالے سے عبداللہ البحرانی نے لکھا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے حساس علاقائی ماحول میں رونما ہو رہی ہے جہاں داخلی سلامتی کے خدشات بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، خصوصاً اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد۔ اس رپورٹ کا مقصد سرکاری بیانات، انسانی حقوق کے اداروں کے ردِعمل اور سرکاری مؤقف کے تقابلی جائزے کے ذریعے اس مہم کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں کا تجزیہ کرنا ہے۔
تاریخی اور سیاسی پس منظر:
انہوں نے لکھا کہ بحرین میں حکومت اور شیعہ اکثریتی آبادی، جو ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے، ان کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ اس کشیدگی کی جڑیں سیاسی نمائندگی، اصلاحات کے مطالبات اور امتیازی سلوک کے الزامات میں پیوست ہیں۔ یہ تناؤ خاص طور پر 2011ء کے عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد بڑھ گیا، جب احتجاجی تحریک کو سخت سکیورٹی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا اور شیعہ کارکنان اور علمائے دین کو نمایاں طور پر نشانہ بنایا گیا۔
حالیہ پیش رفت، مئی 2026 کی مہم:
البحرانی کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے والے بحرینی شہریوں کے ایک گروہ سے متعلق کارروائی کی گئی ہے اور 41 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد پر جارحیت کا جواب دینے کے حوالے سے ایران کے مؤقف سے ہمدردی کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ اعلان بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے اپریل 2026 کے اواخر میں دیے گئے اس بیان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بحرینی شہریت کوئی ایسا کاغذ نہیں جو محض عطا کر دیا جائے، بلکہ یہ ایک عہد و پیمان ہے، اور جو اس عہد کو توڑے گا وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے حق کو ساقط کر دے گا۔ اس بیان کو شہریت کی منسوخی کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔ بعد ازاں مئی 2026 کے آغاز میں حکومت نے 69 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے جاری کیے، جن میں بعض کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے۔ اسی طرح پانچ افراد کو عمر قید اور مزید 24 افراد کو پانچ سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان تمام افراد پر ایران کے ردِعمل کی حمایت یا تائید سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے۔
مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق پر پابندیاں:
البحرانی کے مطابق یہ مہم صرف سکیورٹی پہلو تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کو بھی متاثر کیا ہے۔ تنظیم Americans for Democracy & Human Rights in Bahrain (ADHRB) نے مارچ 2026 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران بحرین میں شیعہ مذہبی رسومات پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی مذمت کی۔ تنظیم نے کعبہ کے ماڈل اور دیگر مذہبی علامات کو ہٹانے، نیز المعامیر گاؤں میں مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کی طلبی اور گرفتاریوں کی نشاندہی کی۔ انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق یہ اقدامات کوئی نئی بات نہیں بلکہ 2011ء سے شیعہ اکثریتی آبادی کے حقوق پر جاری دباؤ کا تسلسل ہیں، جن میں مساجد کی بندش، نمازِ جمعہ پر پابندیاں اور مذہبی مناسبات کے انعقاد میں رکاوٹیں شامل ہیں۔
سیاسی اور قانونی پہلو:
البحرانی کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔
علاقائی حالات سے فائدہ اٹھانے کی عوام دشمن پالیسی:
البحرانی نے مزید لکھا کہ یہ داخلی مہم خطے میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل ایک جانب اور ایران دوسری جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، جو فروری 2026 میں مسلح تصادم تک جا پہنچی۔ ان کے مطابق بحرینی حکومت اس ماحول کو داخلی سکیورٹی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ایران کے حامی سمجھے جانے والے کسی بھی عوامی یا مذہبی رجحان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل ایک نئی علاقائی سکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کی بنیاد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی، ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی مخالفت اور اس مؤقف سے اختلاف رکھنے والی عوامی یا مذہبی سرگرمیوں کو جرم قرار دینے پر رکھی گئی ہے۔
چند تجاویز:
البحرانی کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے یا بیرونی فریقوں سے تعلقات کے نام پر بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں، خصوصاً مذہبی آزادی، آزادیِ عقیدہ اور حقِ شہریت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مذہبی شناخت کو سکیورٹی خطرے سے جوڑنے کا عمل خوف اور عدم استحکام کی فضا پیدا کرتا ہے اور بحرینی معاشرے کے سماجی تانے بانے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ البحرانی نے سفارشات پیش کی ہیں کہ من مانی گرفتاریوں اور شہریت کی منسوخی کا فوری خاتمہ کیا جائے، جن شہریوں کی شہریت منسوخ کی گئی ہے، انہیں ان کا حق واپس دیا جائے، مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کا مکمل احترام کیا جائے، شیعہ مذہبی شعائر اور رسومات پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، بحرین اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں اور ذمہ داریوں کی پابندی کرے، معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت سے ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے تاکہ کشیدگی کے اسباب کا جائزہ لے کر قومی مفاہمت کی راہ ہموار کی جا سکے، مضمون کے اختتام پر البحرانی نے زور دیا کہ پائیدار استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے جامع اور بامعنی قومی مذاکرات ناگزیر ہیں۔