چوہے کھا کر ایک ماہ میں 14 کلو وزن کم کرنے والی خاتون نے دنگ کر دینے والا چیلنج مکمل کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چین میں 25 سالہ خاتون ژاؤ تیے ژو نے ایک انتہائی منفرد اور چیلنجنگ سروائیول مقابلے میں اپنی ہمت اور برداشت کا مظاہرہ کر کے سب کو حیران کر دیا۔ اس مقابلے میں ژاؤ نے 35 دن صحرا جیسے سخت ماحول میں گزارے اور نہ صرف کانسی کا تمغہ جیتا بلکہ 14 کلو وزن بھی کم کیا۔
مقابلہ یکم اکتوبر کو مشرقی چین کے صوبے جیجیانگ کے ایک دور دراز جزیرے پر شروع ہوا، جہاں درجہ حرارت 40 ڈگری تک پہنچ جاتا تھا۔ ژاؤ کو شدید دھوپ، کیڑوں کے حملے، ہاتھوں پر جلن اور ٹانگوں کی سوجن جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری اور مقابلے میں قائم رہی۔
ژاؤ کی خوراک زیادہ تر جزیرے پر دستیاب جانداروں پر مشتمل تھی، جس میں سمندری کیکڑے، سی ارچن، ابیلون اور حیران کن طور پر چوہے شامل تھے۔ پورے مقابلے کے دوران اس نے تقریباً 50 چوہے خود شکار کر کے صاف، بھون کر پروٹین کے حصول کے لیے استعمال کیے اور کچھ چوہوں کا ’’جرکی‘‘ بھی تیار کیا۔ ژاؤ کا کہنا تھا کہ ’’چوہے حیرت انگیز طور پر مزیدار ہوتے ہیں۔‘‘
مقابلے میں 30 دن مکمل کرنے پر 6 ہزار یوان، اور ہر اضافی دن پر 300 یوان شامل ہوتے تھے، جس کے نتیجے میں ژاؤ کو 35 دن کے بعد کل 7,500 یوان (تقریباً 88 ہزار پاکستانی روپے) انعام دیا گیا۔ 4 نومبر کو جزیرے پر طوفان آنے کے بعد ژاؤ نے مقابلہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ وہ اپنا ہدف حاصل کر چکی ہے اور اب آرام چاہتی ہے۔
مقابلے کے منتظم کے مطابق اب بھی جزیرے پر دو مرد شرکا باقی ہیں جو پہلی پوزیشن کے لیے 50 ہزار یوان کی جیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ چین میں ایسے سروائیول مقابلے تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں اور لاکھوں ناظرین انہیں لائیو دیکھتے ہیں۔ ہنان صوبے کے سیون اسٹار ماؤنٹین پر جاری ایک اور بڑا مقابلہ بھی ہو رہا ہے، جہاں سب سے زیادہ دن زندہ رہنے والا شخص 2 لاکھ یوان (تقریباً 28 ہزار ڈالر) جیت سکتا ہے۔
ژاؤ تیے ژو کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ اس کی توقعات سے بہتر رہا اور وہ آئندہ مزید ایسے سروائیول گیمز میں حصہ لینے کے لیے پُرعزم ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف غیر معمولی ہمت اور برداشت کی مثال ہے بلکہ ایک منفرد طرزِ زندگی اور خطرات سے نبردآزما ہونے کی کہانی بھی پیش کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مقابلے میں کے لیے
پڑھیں:
چین کا اے آئی بلیک بورڈ: استاد کی آواز اور لکھائی سمجھ کر سبق کو تھری ڈی ماڈل میں تبدیل کرنے والی ٹیکنالوجی
چین کی معروف مصنوعی ذہانت کمپنی آئی فلائی ٹیک نے ایسا جدید ‘اے آئی بلیک بورڈ’ متعارف کرا دیا ہے جو استاد کی آواز، ہاتھ کی لکھائی اور تدریسی مواد کو سمجھ کر اسے فوری طور پر ڈیجیٹل نوٹس اور تھری ڈی ماڈلز میں تبدیل کر دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی اے آئی ایپ سیڈانس نے ہالی ووڈ میں ہلچل مچا دی
کمپنی نے نئے ژونگ فی ٹونگ شوان اے آئی بلیک بورڈ کی نمائش شنگھائی میں منعقد ہونے والی عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس 2026ء میں کی۔ مظاہرے کے دوران دیکھا گیا کہ استاد عام انداز میں بورڈ پر مساوات یا خاکہ بناتا ہے، جسے یہ ذہین بورڈ فوری طور پر انٹرایکٹو گراف اور تھری ڈی ماڈل میں تبدیل کر دیتا ہے۔
طلباء ان تھری ڈی ماڈلز کو مختلف زاویوں سے دیکھ سکتے ہیں، انہیں گھما سکتے ہیں اور ضرورت کے مطابق بڑا یا چھوٹا کر سکتے ہیں، جس سے مشکل موضوعات کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ بورڈ خاص طور پر ریاضی، جیومیٹری، کیمیا اور طبیعیات جیسے مضامین کی تدریس کو آسان بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس میں آواز کو سمجھنے، زبان کا تجزیہ کرنے اور ہاتھ سے لکھی تحریر کو شناخت کرنے والی جدید ٹیکنالوجی شامل ہے۔
اے آئی بورڈ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ کلاس میں لکھے گئے تمام نوٹس کو خودکار طور پر ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کر لیتا ہے، جس سے طلباء کو لیکچر دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں رہتی جبکہ اساتذہ مواد کو محفوظ، ترمیم اور شیئر بھی کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شادی کرلو ورنہ میری طرح پچھتاؤگے، چینی نوجوانوں کو ’اے آئی خواتین‘ کی دل دہلادینے والی نصیحتیں
رپورٹس کے مطابق چین کے 33 صوبوں کے 60 ہزار سے زائد اسکولوں میں 16 کروڑ سے زیادہ طلباء اور اساتذہ پہلے ہی اسمارٹ تعلیمی نظام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
آئی فلائی ٹیک کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا مقصد استاد کی جگہ لینا نہیں بلکہ تدریسی عمل کو بہتر بنانا ہے، تاکہ اساتذہ انتظامی کاموں کے بجائے طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں اور بہتر سیکھنے پر زیادہ توجہ دے سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news استاد اسمارٹ کلاس روم اے آئی ٹیکنالوجی اے آئی تھری ڈی ماڈل چین ڈیجیٹل لرننگ روبوٹکس مصنوعی ذہانت