پاکستان کی مقبوضہ مغربی کنارے اور مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان نے مقبوضہ مغربی کنارے اور مسجدِ اقصیٰ میں قابض اسرائیلی افواج اور انتہا پسند یہودی آبادکاروں کی مسلسل خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ کے صحن میں بار بار دھاوے، نمازیوں کو ہراساں کرنے اور فلسطینی عوام کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال بین الاقوامی قوانین اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا ہر حال میں احترام کیا جانا ضروری ہے، بین الاقوامی قانون اس کی مکمل ضمانت دیتا ہے۔
پاکستان نے عالمی برادری سے فوری طور پر مؤثر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ اور دیگر مقدس مقامات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ آبادکاروں کے تشدد اور حملوں کو روکا جائے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کرایا جائے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان ایک عادلانہ، جامع اور مستقل حل کی حمایت کرتا ہے۔ دو ریاستی فارمولے پر مبنی ہو فلسطین کا ایک آزاد، خودمختار، قابلِ عمل اور متصل ریاست کے طور پر قیام، 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔