اسلام آباد:

پاکستان نے مقبوضہ مغربی کنارے اور مسجدِ اقصیٰ میں قابض اسرائیلی افواج اور انتہا پسند یہودی آبادکاروں کی مسلسل خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ کے صحن میں بار بار دھاوے، نمازیوں کو ہراساں کرنے اور فلسطینی عوام کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال بین الاقوامی قوانین اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا ہر حال میں احترام کیا جانا ضروری ہے، بین الاقوامی قانون اس کی مکمل ضمانت دیتا ہے۔

پاکستان نے عالمی برادری سے فوری طور پر مؤثر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ اور دیگر مقدس مقامات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ آبادکاروں کے تشدد اور حملوں کو روکا جائے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کرایا جائے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان ایک عادلانہ، جامع اور مستقل حل کی حمایت کرتا ہے۔ دو ریاستی فارمولے پر مبنی ہو فلسطین کا ایک آزاد، خودمختار، قابلِ عمل اور متصل ریاست کے طور پر قیام، 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم