روس کیساتھ کاروبار کرنیوالے ممالک پر سخت پابندیاں لگائیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ریپبلکن رہنماء روس سے کاروبار کرنیوالے ممالک پر پابندیاں لگانے کی قانون سازی پر کام کر رہے ہیں، ایران کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ روس کے ساتھ کاروبار کرنے والے ہر ملک کو سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ریپبلکن رہنماء روس سے کاروبار کرنے والے ممالک پر پابندیاں لگانے کی قانون سازی پر کام کر رہے ہیں، ایران کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ میں نے تجویز دی تھی کہ روس سے کاروبار کرنے والے ممالک پر سخت پابندیاں لگائی جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ممالک پر
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔