Express News:
2026-06-03@00:38:39 GMT

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بی بی سی پر 5 ارب ڈالر تک ہرجانے کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے ہفتے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے خلاف ایک سے پانچ ارب ڈالر تک کا مقدمہ دائر کریں گے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اعلان صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب بی بی سی نے ان کی 6 جنوری 2021 کی تقریر کے ایک حصے کی ایڈیٹنگ کو غلطی قرار دیتے ہوئے معافی تو مانگ لی ہے لیکن ساتھ ہی کہا کہ صدر ٹرمپ کے الزامات کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔

بی بی سی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس کی ایڈیٹنگ غلط تھی جس سے ادارے کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے وکلاء نے بتایا کہ ’’بی بی سی‘‘ کو قانونی نوٹس موصول ہوا تھا جس میں صدر ٹرمپ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا الزام لگا کر جمعے کے روز تک معافی مانگنے اور معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

یہ تنازع بی بی سی کی اس ایڈٹ شدہ ویڈیو سے شروع ہوا جس میں ٹرمپ کی 6 جنوری کی تقریر کے تین مختلف حصوں کو ملا کر پیش کیا گیا تھا۔

امریکی صدر کی ٹیم کا مؤقف تھا کہ اس ایڈیٹنگ سے یہ تاثر گیا کہ صدر ٹرمپ اپنے حامیوں کو کیپیٹل ہل پر حملے کی ترغیب دے رہے تھے۔

اس تنازع نے بی بی سی کو بدترین بحران میں دھکیل دیا ہے اور ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی اور ہیڈ آف نیوز ڈیبرہ ٹرنَس کو اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینا پڑا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں بی بی سی کی ایڈٹ شدہ ویڈیو کو انخابی عمل میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ویڈیو نہ صرف جھوٹ بلکہ بدنیتی پر مبنی تھی۔

انھوں نے بی بی سی کی معذرت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو کلپس کو تقریباً ایک گھنٹے کے وقفے کے ساتھ پیش کیا گیا لیکن انہیں یوں جوڑا گیا جیسے وہ ایک مسلسل اشتعال انگیز خطاب تھا۔

یاد رہے کہ قانونی نوٹس ملنے پر بی بی سی کے چیئرمین نے وائٹ ہاؤس سے ذاتی طور پر معذرت کی اور برطانوی قانون سازوں کو بتایا کہ یہ فیصلہ غلطی پر مبنی تھا۔ برطانیہ کی ثقافتی وزیر لیزا نینڈی نے بھی اسے درست اور ضروری قدم قرار دیا۔

تاہم صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر سے بات کریں گے جنھوں نے بی بی سی کی ادارہ جاتی خودمختاری کی حمایت کی ہے لیکن کھل کر کسی جانب داری کا اظہار نہیں کیا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بی بی سی کی

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ