Jasarat News:
2026-07-24@15:13:08 GMT

عافیہ کی واپسی پر حکومت کی رضا مندی خوش آئند ہے

اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستانی قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے معاملے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، بظاہر ایک روایتی پیشی، روایتی سماعت اور روایتی التوا ہے، ہمارے عدالتی نظام میں بھی ایسا ظلم کا نظام ہے کہ اسے ہی نظام کہا جاتا ہے۔ مقدمہ کسی نوعیت کا ہو، کتنا ہی سنگین ہو، سائل کتنا ہی مظلوم اور مجبور ہو، کبھی جج چھٹی کرجاتا ہے، کبھی ایک وکیل تاریخ بڑھانے کی درخواست کرتا ہے کبھی دوسرا، اور عافیہ کے کیس میں تو سارے مظالم پر مشتمل ظلم ہوا ہے۔ جج بدلنے لارجر بنچ بنانے، بنچ ٹوٹنے، پھر بننے کے بعد اب معمول کے تاخیری نظام کے مطابق سماعت ہوئی اور اس مرتبہ درخواست گزار کا وکیل حاضر نہیں تھا، عدالت نے بہرحال تاریخ دیدی، مگر وکیل سرکار نے اپنے موقف میں جوکچھ کہا ہے اس میں امید کی ایک جھلک ہے، اس نکتے پر غور کریں تو مسئلہ حل۔ بشرطیکہ سرکار کی طرف سے نیک نیتی ہو، وکیل سرکار نے کہا ہے کہ درخواست میں جو استدعائیں کی گئی تھیں وہ تمام پوری ہوچکی ہیں، مان لیتے ہیں کہ کم وبیش ایسا ہی ہے، وکیل نے کہا ہے کہ بس اب امریکی عدالت میں رحم (انسانی بنیادوں پر رہائی) کی اپیل دائر کرنے کا معاملہ زیر غور ہے۔ اور اپیل میں ایسے نکات شامل ہیں جو ریاستی موقف کے خلاف ہیں اس لیے اس صورت میں ریاست اس کی حمایت نہیں کرسکتی۔ اس بیان سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ سرکار انسانی بنیادوں پر عافیہ کی رہائی کے حق میں ہے، بس امریکی عدالت میں پٹیشن کے مندرجات پر اعتراض ہے، تو اس پر تو بات ہوسکتی ہے۔ اور ہونی بھی چاہیے۔

 

عدالت نے درست فیصلہ کیا کہ درخواست گزار کے وکیل کو سن کر مزید کارروائی کی جائے گی، اس نکتے ہی میں اتفاق رائے کا نکتہ بھی ہے، اور وہ یہ کہ سرکار رحم کی اپیل کی موجودہ صورت میں حمایت نہیں کرسکتی۔ لیکن اسے رحم کی اپیل سے تو اختلاف نہیں ہے، تو اگلی سماعت میں جہاں درخواست گزار کے وکیل کو سنا جائے وہیں سرکار سے بھی پوچھا جائے کہ کون سی باتیں ریاستی موقف کے خلاف ہیں۔ ریاست کا موقف تو سرکار اور درخواست گزار دونوں کے لیے یکساں قابل احترام ہے لہٰذا اس پر تو اختلاف نہیں ہونا چاہیے، جو جو چیزیں ریاستی مفاد کے خلاف ہوں انہیں دوطرفہ اتفاق رائے سے خارج کردیا جائے اور ایک مشترکہ مضبوط موقف پر مشتمل اپیل امریکی عدالت میں دائر کی جائے۔

 

یاد رکھیں مضبوط اپیل اسی صورت میں ہوگی جب ریاست اس کی حمایت کرے، کم از کم اب تک ریاست کی جانب سے کھل کر عافیہ سے لاتعلقی تو ظاہر نہیں کی گئی، ہاں ٹال مٹول تو مسلسل جاری ہے، بس ایک ذرا سی کمی ہے وہ ریاستی عزم ہے، اپنی قوم کی بیٹی کو باعزت طور پر ملک واپس لانے کا عزم اور اس کا دوٹوک اظہار ہے، حکومت یہ کمی پوری کرے، اختلافی نکات کی نشاندہی کرے اور متفقہ نکات کی بنیاد پر عافیہ کی رہائی کی اپیل کی جائے۔

 

پاکستان کی تاریخ میں امریکا کو دینے والی چیزوں کی فہرست بڑی طویل ہے، لیکن لینے والی چیزوں کی فہرست نہ ہونے کے برابر ہے، خصوصاً انسان امریکا کے حوالے کرنے کا معاملہ تو یکطرفہ ہے، اب اس معاملے میں حکومت کا اسکور بہتر ہوسکتا ہے، طویل عرصے کے بعد پاکستان اپنے کسی شہری کو امریکا سے مانگ کر اپنا وقار بلند کرسکتا ہے۔ اگلی سماعت میں عدالت بھی سرکار سے استفسار کرے اور درخواست گزار کا وکیل بھی کہ کون کون سی باتیں سرکاری ریاستی موقف کے خلاف ہیں، یہ باتیں سامنے آنے ہی سے رکاوٹیں دور ہوں گی اور ریاست کا وقار افضل لیکن اس کو بچاتے ہوئے بیٹی کو لانے کا راستہ بھی تو اختیار کیا جائے۔ رحم کی اپیل کو سادہ بنایا جائے، عافیہ کی کیفیت، اس کی ذہنی، جسمانی، نفسیاتی صورتحال اور بچوں اور خاندان سے دوری کی بنیاد پر انسانی ہمدردی کی متفقہ اپیل امریکی عدالت میں بھیجی جائے۔ حکومت پاکستان بھی جانتی یے کہ اپیل کی سرکاری حمایت اس اپیل کو مضبوط اور جاندار بنائے گی، اور حمایت نہ کرنے کا مطلب عافیہ سے سرکار کی دستبرداری ہوگی۔ اب فیصلہ ریاست، حکومت اور درخواست گزار کو مل کر قومی مفاد میں کرنا ہے، اور قومی مفاد قوم کی بیٹی کی باعزت واپسی ہی ہے۔ بیٹی قید میں رہے تو، ریاست اور قوم کا وقار بھی مجروح ہوگا۔

 

اگلی سماعت میں ابھی وقت ہے، عدالت عافیہ کے امریکی وکیل، ڈاکٹر فوزیہ، ان کے وکیل اور سرکار کو تمام اختلافی امور ختم کرکے متفقہ پٹیشن تیار کرنے حکم دے سکتی ہے، اس طرح عافیہ سے متعلق حکومتی عدم دلچسپی کا تاثر بھی ختم ہوجائے گا اور عافیہ کا کیس بھی مضبوط ہوجائے گا، لیکن اس سارے معاملے میں سرکار کی طرف سے سنجیدگی اور خلوص کے اظہار کی ضرورت ہوگی، اس کے بغیر معاملہ لٹکا ہی رہے گا۔

مظفر اعجاز.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکی عدالت میں درخواست گزار عافیہ کی کی اپیل کے خلاف

پڑھیں:

ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج

سیشن کورٹ لاہور میں ریاست مخالف ٹویٹ کرنے کے مقدمے میں عدالت نے صنم جاوید(Sanam javed) اور فلک جاوید(Falak Javed) کا جیل ٹرائل کے لیے دائر درخواست خارج کردی ۔

عدالت نے این سی سی آئی اے کو ہدایت دی کہ جیل ٹرائل کے لیے ہوم ڈیپارٹمنٹ سے رجوع کیا جائے۔

مزیدپڑھیں:سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی

ایڈیشنل سیشن جج نصرت صدیقی نے این سی سی آئی اے کی درخواست پر سماعت کی، عدالت نے مین کیس کی سماعت دس ستمبر تک ملتوی کردی۔

مقدمے میں فلک جاوید کو حاضری کے لیے عدالت کے روبرو پیش کیا گیا، این سی سی آئی اے نے مقدمے کا چالان جمع کروا رکھا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • متنازع اے این ایف بھرتی اشتہار کی معطلی کی درخواست پر عدالت کا تحریری حکم نامہ جاری
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ جانیے
  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست