WE News:
2026-07-24@03:13:27 GMT

این ایف سی کا ابتدائی اجلاس پھر مؤخر، سیاسی مشاورت کی جائے گی

اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT

این ایف سی کا ابتدائی اجلاس پھر مؤخر، سیاسی مشاورت کی جائے گی

قومی مالیاتی کمیشن یعنی این ایف سی کے ابتدائی اجلاس کا انعقاد ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا، حالانکہ 3 ماہ قبل تشکیل دیے گئے کمیشن کا اجلاس 18 نومبر کو بلانے کی تجویز دی گئی تھی۔

تاہم موجودہ مالی سال کے لیے معاشی ترقی کی شرح میں 0.7 فیصد تک کمی کرکے 3.5 فیصد کرنے کے بعد یہ اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف نے پاکستان سے این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی کاکیوں کہا؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف مرکز اور صوبوں کے اہم سیاسی معاملات پر پہلے سیاسی سطح پر پیش رفت کے خواہاں ہیں۔

جس کے بعد این ایف سی جیسے تکنیکی اور آئینی فورم پر مالیاتی معاملات پر بات چیت شروع کی جائے۔

The inaugural session of #NFC, constituted 3 months ago, is not in sight, as the proposed date of Nov 18 has also been postponed yet again.

The Centre backs off from changes to #NFCAward after deal with PPP for supporting #27thAmendmenthttps://t.co/A4USluKpbp

— Bilal Farooqi (@bilalfqi) November 17, 2025

11 واں این ایف سی ایوارڈ 22 اگست کو تشکیل دیا گیا تھا تاکہ مرکز اور صوبوں کے درمیان قابل تقسیم وفاقی محاصل کی نئی تقسیم کا تعین کیا جا سکے۔

ابتدائی اجلاس پہلے 27 اگست کو بلایا گیا تھا، پھر بغیر وجہ بتائے 29 اگست تک ملتوی کردیا گیا۔ بعدازاں سندھ حکومت کی درخواست پر سیلاب کے باعث اجلاس مزید مؤخر ہوگیا۔

مزید پڑھیں: نئے صوبوں کا قیام، این ایف سی ایوارڈ فارمولے میں تبدیلی، رانا ثنااللہ کھل کر بول پڑے

2009  کا 7واں این ایف سی ایوارڈ اپنی 5 سالہ آئینی مدت سے 15 سال بعد بھی بدستور نافذ العمل ہے۔

اسی وجہ سے مختلف حلقوں، بشمول وزارت خزانہ، مسلح افواج اور آئی ایم ایف، کی جانب سے صوبوں کو 7ویں این ایف سی کے تحت ملنے والے بڑے حصے کو متوازن کرنے کے مطالبات پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔

مزید پڑھیں:ہمیں این ایف سی ایوارڈ میں ہمارا جائز حصہ دیا جائے، مزمل اسلم

آئین میں واضح ہے کہ کسی بھی این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے حصص کم نہیں کیے جا سکتے اور ایوارڈ 5 فریقین، یعنی مرکز اور چاروں صوبوں، کے اتفاقِ رائے سے طے پاتا ہے۔

7ویں این ایف سی کے تحت صوبوں کو قابل تقسیم محاصل میں 57.5 فیصد حصہ ملتا ہے، جبکہ انکم ٹیکس، ویلتھ ٹیکس، کیپیٹل ویلیو ٹیکس، جی ایس ٹی، کسٹمز ڈیوٹی اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے مزید پڑھیں:حاصل ہونے والی آمدنی بھی شامل ہے۔

مزید پڑھیں:این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا حصہ دوگنا کردیا گیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف

صوبوں میں افقی تقسیم آبادی، غربت، ریونیو کلیکشن اور الٹی آبادی کثافت کی بنیاد پر ہوتی ہے، جس کے مطابق پنجاب کا حصہ 51.74 فیصد، سندھ 24.55 فیصد، خیبر پختونخوا 14.62 فیصد اور بلوچستان 9.09 فیصد ہے۔

سیاسی سودے بازی

ذرائع کے مطابق صوبوں کو اس ماہ کے اوائل میں 18 نومبر کی تاریخ غیر رسمی طور پر بتائی گئی تھی۔ تاہم وزیراعظم آفس نے اجلاس مؤخر کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئی تاریخ صوبوں کو تب تک نہ بتائی جائے جب تک وزیراعظم اتحادی جماعتوں سے مشاورت نہ کر لیں۔

وزیراعظم کا کمیشن کی تشکیل کے بعد این ایف سی کے معاملات میں کوئی براہِ راست کردار نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں:این ایف سی ایوارڈ میں آئندہ صوبوں کا حصہ زیادہ ہی ہوگا، وزیراعلیٰ سندھ

این ایف سی کے پیمانوں میں ترمیم دراصل 27ویں آئینی ترمیم کا حصہ تھی، جس کے تحت مرکز صوبوں کا مالی حصہ کم کرنا اور تعلیم، آبادی سمیت چند صوبائی اختیارات واپس لینا چاہتا تھا۔

تاہم پیپلز پارٹی سے سیاسی سمجھوتے کے نتیجے میں وفاق نے اس مطالبے سے فی الحال پسپائی اختیار کر لی۔

مزید پڑھیں: 11ویں این ایف سی ایوارڈ کے لیے کمیشن تشکیل، وفاقی وزیر خزانہ سربراہ مقرر

اس کے باوجود وزیراعظم پیپلز پارٹی کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کے اشارے دے رہے ہیں۔

مرکز نے این ایف سی سے ہٹ کر ایک بڑا آمدنی کا ذریعہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی قائم کر لیا ہے، جبکہ صوبوں سے ایوارڈ سے باہر تقریباً 1.5 ٹریلین روپے کا کیش بیک بھی حاصل کر چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

27ویں آئینی ترمیم انکم ٹیکس این ایف سی پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی شہباز شریف کیپیٹل ویلیو ٹیکس

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 27ویں ا ئینی ترمیم انکم ٹیکس این ایف سی شہباز شریف ایف سی ایوارڈ میں ایف سی کے مزید پڑھیں صوبوں کو کا حصہ

پڑھیں:

وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار

سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ