داؤد ابراہیم کے بھانجے کی پارٹی میں شرکت کا معاملہ، اداکارہ نورا فتیحی نے خاموشی توڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
بالی ووڈ اداکارہ و رقاص نورا فتیحی نے اپنے خلاف گردش کرنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ ممبئی میں منعقد ہونے والی مبینہ منشیات پارٹیوں میں شریک تھیں۔
نورا فتیحی نے انسٹاگرام پر جاری بیان میں ان خبروں کو ’جھوٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا نام بلاجواز اس معاملے سے جوڑا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیوی کو نورا فتیحی جیسا بنانے کی ضد کا انجام کیا ہوا؟
انہوں نے لکھا کہ میں پارٹیز میں شرکت نہیں کرتی۔ میں مسلسل سفر میں ہوتی ہوں اور اپنا بیشتر وقت کام میں گزارتی ہوں۔ میرا ان افراد سے کوئی تعلق نہیں جن کا ایسی سرگرمیوں سے واسطہ ہو۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ میں چھٹی کے دن میں گھر، دبئی کے ساحل یا اپنے اسکول کے دوستوں کے ساتھ وقت گزارتی ہوں۔ میرا پورا دن و رات میرے کام، خوابوں اور اہداف پر صرف ہوتا ہے۔ نورا نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں کہ ان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا ہو۔ ماضی میں بھی جھوٹ کے ذریعے میری ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، مگر اس بار میں خاموش نہیں رہوں گی۔
نورا فتیحی کا کہنا تھا کہ براہِ مہربانی میرا نام اور تصویر ایسے معاملات میں استعمال نہ کی جائے جن سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ اس کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں: نورا فتیحی کی ہلاکت کی خبریں، سچائی کیا ہے؟
نورا فتیحی کا بیان ان میڈیا رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ، شردھا کپور اور دیگر بالی ووڈ سلیبریٹیز مبینہ طور پر ایک گرفتار منشیات فروش محمد سلیم محمد سہیل شیخ المعروف ’سہیل‘ کی جانب سے منعقد کی گئی ریو پارٹیوں میں شریک ہوئے تھے۔
اطلاعات کے مطابق اس نے ممبئی پولیس کو بتایا کہ وہ یہ پارٹیوں بالی ووڈ اور فیشن انڈسٹری کی شخصیات کے لیے منعقد کرتا تھا، جن میں داؤد ابراہیم کے بھانجے علی شاہ پارکر نے بھی شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: اداکار سعود کی نورا فتیحی سے ملاقات، اہلیہ نے ویڈیو کیوں وائرل کی؟
گزشتہ ماہ شیخ کو دبئی سے ڈی پورٹ کیا گیا تھا اور اس وقت وہ اینٹی نارکوٹکس سیل (ANC) کی گھاٹ کوپر یونٹ کی تحویل میں ہے۔ اے این سی کے اہلکاروں نے اس امکان کو رد نہیں کیا کہ شیخ کے اعترافی بیان میں نامزد کیے گئے سلیبریٹیز سے پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ۔ نورا فتیحی نورا فتیحی پارٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بالی ووڈ نورا فتیحی نورا فتیحی پارٹی نورا فتیحی بالی ووڈ کیا گیا تھا کہ
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔