امریکی صدر ٹرمپ کا بی بی سی کے خلاف 5 ارب ڈالر تک ہرجانے کا مقدمہ دائر کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو بتایا کہ وہ آئندہ ہفتے بی بی سی کے خلاف 1 سے 5 ارب ڈالر تک کے ہرجانے کا مقدمہ دائر کریں گے، کیونکہ برطانوی نشریاتی ادارے نے ان کی تقریر کی ویڈیو کو غلط انداز میں ایڈٹ کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
بی بی سی حالیہ ہفتوں میں شدید بحران کا شکار ہے، کیونکہ اس تنازع اور دیگر جانبداری کے الزامات کے بعد اس کے دو اعلیٰ عہدیدار مستعفی ہو چکے ہیں۔ تاہم بی بی سی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا دعویٰ قانونی بنیاد نہیں رکھتا۔
یہ بھی پڑھیے: دنیا کے معروف نشریاتی ادارے بی بی سی کو ڈونلڈ ٹرمپ سے معافی کیوں مانگنی پڑی؟
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب بی بی سی کے پروگرام ‘پینوراما’ میں ٹرمپ کی 6 جنوری 2021 کی تقریر کے 3 حصے اس طرح جوڑے گئے کہ یوں لگا جیسے وہ کیپیٹل ہل پر حملہ بھڑکا رہے تھے۔
ٹرمپ کے وکلا نے بی بی سی کو دستاویزی فلم واپس لینے، معافی مانگنے اور کم از کم 1 ارب ڈالر ہرجانے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا۔ بی بی سی نے ایڈیٹنگ کو غلطیِ قرار دیتے ہوئے ٹرمپ سے ذاتی معافی تو مانگی، مگر دستاویزی فلم دوبارہ نشر کرنے سے انکار کر دیا اور الزامات کو بے بنیاد کہا۔
فلوریڈا جانے سے قبل ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم اگلے ہفتے انہیں سو کریں گے، شاید 1 سے 5 ارب ڈالر کے درمیان۔ انہوں نے مانا ہے کہ انہوں نے دھوکا کیا۔ انہوں نے میرے الفاظ بدل دیے۔
یہ بھی پڑھیے: بی بی سی کی ٹرمپ مخالف رپورٹ پر تنازع، ادارے کی قیادت بحران کا شکار
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے اس معاملے پر بات نہیں ہوئی، لیکن ہفتے کے آخر میں گفتگو کا ارادہ ہے، اور اسٹارمر اس معاملے پر شرمندہ ہیں۔
جی بی نیوز کو انٹرویو میں ٹرمپ نے بی بی سی کی ایڈیٹنگ کو ناقابلِ یقین قرار دیتے ہوئے اسے انتخابی مداخلت جیسا عمل کہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیک نیوز سے آگے بڑھ کر بدعنوانی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بی بی سی ڈونلڈ ٹرمپ ہرجانہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ ارب ڈالر انہوں نے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔