ایڈٹ شدہ کلپ کا تنازع: بی بی سی نے ٹرمپ سے معافی مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن: برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر کے ایک ایڈٹ شدہ حصے کی نشریات پر بالآخر باضابطہ معافی مانگ لی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق بیان میں ادارے نے تسلیم کیا کہ پینوراما پروگرام میں استعمال کیے گئے کلپ کی تدوین اس انداز میں کی گئی کہ اس سے غلط تاثر پیدا ہوا، جیسے ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو براہ راست تشدد پر اکسانے کی کوشش کی ہو۔ بی بی سی نے واضح کیا کہ اس غلطی کا ادارتی طور پر جائزہ لیا جا چکا ہے اور یہ پروگرام دوبارہ نشر نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ کے وکلا نے اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی بی سی کے خلاف ایک ارب ڈالر کے ہرجانے کا مقدمہ دائر کرنے کی دھمکی دی تھی۔ ٹرمپ کی ٹیم کا مؤقف تھا کہ ایڈیٹنگ نے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے، لہٰذا نہ صرف معذرت اور اصلاح ضروری ہے بلکہ انہیں مالی معاوضہ بھی ادا کیا جانا چاہیے۔
بعد ازاں بی بی سی نے یہ مطالبہ دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ معافی کے باوجود کسی بھی قسم کا مالی معاوضہ ادا نہیں کیا جائے گا اور اس تنازع میں ہتکِ عزت کا دعویٰ بنتا ہی نہیں۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹِم ڈیوی اور ہیڈ آف نیوز ڈیبی ٹرننس دونوں نے اتوار کے روز اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان استعفوں نے ادارے کے اندرونی بحران کو بھی مزید نمایاں کر دیا اور یہ سوالات اٹھائے کہ ادارتی نگرانی میں اس حد تک بڑی غلطی کس طرح پیش آئی۔
بی بی سی کی اندرونی تحقیقات کے مطابق پینوراما پروگرام کو شکایات موصول ہونے کے بعد دوبارہ دیکھا گیا اور یہ اعتراف سامنے آیا کہ مختلف حصوں کو جوڑنے کی تکنیک نے تقریر کی اصل صورت کو مسخ کر دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔