‘دھی رانی پروگرام’ پنجاب حکومت کا ایک انقلابی اور عوام دوست منصوبہ ہے جو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے فلاحی ویژن کا شاہکار ہے۔ یہ پروگرام مستحق، غریب اور کم آمدنی والے خاندانوں کی بیٹیوں کی شادی عزت و وقار کے ساتھ کرانے کے لیے شروع کیا گیا ہے تاکہ معاشی مشکلات کی وجہ سے شادیوں میں تاخیر نہ ہو۔

پروگرام کا آغاز جنوری 2025 میں ہوا۔ یہ اجتماعی شادیوں کی شکل میں منعقد کیا جاتا ہے، جہاں حکومت مکمل شادی کا انتظام کرتی ہے اور  جہیز کا سامان، کھانا اور مالی امداد فراہم کرتی ہے۔

اس پروگرام کے  تحت تمام مذاہب  مسلم، مسیحی، ہندو وغیرہ  کے  جو مستحق جوڑے ہیں سب اس پروگرام کے تحت مستفید ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے پنجاب حکومت کا لائیو اسٹاک کارڈ: مویشی پالنے والے کیا فائدہ اٹھاسکتے ہیں؟

پروگرام کی شفافیت کے لیے آن لائن پورٹل cmp.

punjab.gov.pk قائم کیا گیا ہے جہاں درخواستیں جمع کرائی جاتی ہیں۔ درخواستوں کی تصدیق کے لیے خصوصی ٹیمیں گھر گھر جا کر چیکنگ کرتی ہیں۔

ابتدائی طور پر ہر جوڑے کو 1 لاکھ روپے کی سلامی دی جاتی تھی، لیکن جون 2025 میں وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر اسے بڑھا کر 2 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے تاکہ جوڑے اپنی مرضی سے اخراجات کر سکیں۔

یہ رقم ‘دھی رانی سلامی کارڈ’ کی صورت میں بینک آف پنجاب کے  اے ٹی ایم سے نکالی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ جہیز میں بیڈ، میٹرس، ڈنر سیٹ، کچن کا سامان، عروسی جوڑا اور دیگر ضروری اشیاء تقریباً 2 لاکھ روپے مالیت کی الگ سے دی جاتی ہیں۔

صوبائی وزیر سوشل ویلفئیر سہیل شوکت بٹ کے مطابق ‘دھی رانی پروگرام’ نے صرف 9 ماہ میں پنجاب بھر میں 66 اجتماعی شادیوں کی تقریبات کامیابی سے منعقد کی گئیں، جن میں 4857 مستحق جوڑوں کو رشتہ ازدواج میں منسلک کیا گیا۔ یہ پروگرام غریب اور مستحق خاندانوں کی بیٹیوں کی شادیوں کو عزت و وقار کے ساتھ کرانے کا ایک منفرد اقدام ہے، جو 3 مراحل میں مکمل شفافیت کے ساتھ جاری ہے۔

پروگرام کے پہلے مرحلے میں 25، دوسرے میں 23 اور تیسرے میں 18 اجتماعی تقریبات کا انعقاد ہوا۔شادی کی ان تقریبات میں 20 مہمانوں کو کھانا، بھی کھلایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے دِھی رانی پروگرام کیا ہے، درخواست کے لیے کن شرائط کو پورا کرنا ضروری ہوگا؟

جون 2025 میں پروگرام کو مزید وسیع کرتے ہوئے سالانہ شادیوں کی تعداد 3000 سے بڑھا کر 5000 کر دی گئی ہیں۔ آئندہ مالی سال میں ہندو برادری سمیت تمام اقلیتوں کو مزید شامل کیا جائے گا۔

’دھی رانی پروگرام‘ کا بجٹ 1.7 ارب روپے مختص ہے اور روایتی جہیز کی بجائے نقد امداد پر فوکس کیا گیا ہے تاکہ جوڑے آزادانہ فیصلے کر سکیں۔

صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر سہیل شوکت بٹ کے مطابق یہ پروگرام جنوبی پنجاب سمیت پورے صوبے میں عوام کی طرف سے زبردست پذیرائی حاصل کر رہا ہے اور وزیراعلیٰ کے ’ماں جیسے جذبے‘ کا عکاس ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پنجاب حکومت دھی رانی پروگرام وزیراعلیٰ مریم نواز شریف

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پنجاب حکومت دھی رانی پروگرام وزیراعلی مریم نواز شریف دھی رانی پروگرام پنجاب حکومت کیا گیا کے لیے گیا ہے

پڑھیں:

اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب

پنجاب اسمبلی (فائل فوٹو)۔

اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے  کے لیے پنجاب اسمبلی میں ارکان کے لیے جدید ٹیبلٹس انسٹال کر دییے گئے۔ 

لاہور سے ترجمان پنجاب اسمبلی کےمطابق  صوبائی اسمبلی کا اگلا اجلاس پیپر لیس ہو گا، 380 ٹیبلٹس یورپین یونین کے آئی پی 5 پروگرام کے تحت پنجاب اسمبلی کو فراہم کیے گئے۔ 

ترجمان کے مطابق ایپلیکیشن پی آئی ٹی بی نے محکمہ قانون اور اسمبلی آئی ٹی ٹیم کی مشاورت سے تیار کیا، جو صرف اسمبلی کارروائی کے لیے ہے۔ 

چوہدری عامر حبیب کے مطابق اس فیصلہ سے گرین انرجی کے تحت توانائی کی بچت بھی ہو گی۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور