Al Qamar Online:
2026-06-03@01:35:40 GMT

لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں دوسرے نمبر پر آگیا

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT



لاہور:

پنجاب میں فضائی آلودگی کی شدت ایک بار پھر خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے، جس کے باعث لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔

بین الاقوامی ادارے آئی کیو ائیر کے مطابق لاہور کا مجموعی اے کیو آئی 318 ریکارڈ کیا گیا، جب کہ بعض مقامات پر یہ سطح 647 سے 855 تک جا پہنچی۔ فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ اور راوی روڈ کے علاقے سب سے زیادہ آلودہ قرار دیے گئے ہیں۔

پنجاب ایئر کوالٹی مانیٹرنگ کے اعداد و شمار کے مطابق لاہور کا اے کیو آئی 397 ہے، جو صوبے میں آلودگی کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے۔

واضع رہے کہ پنجاب کا ائیرکوالٹی مانیٹرنگ سسٹم 500 سے زیادہ کی ریڈنگ ظاہر ہی نہیں کرتا، اس لیے حقیقی آلودگی کی شدت اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ لاہور کے اندر شاہدرہ، کاہنہ، پنجاب یونیورسٹی، ڈی ایچ اے فیز 6، واہگہ بارڈر، برکی روڈ اور سفاری پارک کے علاقے بدترین فضائی معیار والے زونز میں شامل ہیں۔ جہاں ائیرکوالٹی کی شرح 500 تک ریکارڈ کی گئی۔

پنجاب بھر میں بہاولپور اس وقت سب سے زیادہ آلودہ شہر ہے جہاں اے کیو آئی 620 تک جا پہنچا، جب کہ ملتان 427، فیصل آباد 418 اور گجرانوالہ 379 کی سطح کے ساتھ خطرناک زون میں شمار کیے گئے ہیں۔

محکمہ تحفظِ ماحول پنجاب نے اپنی اکتوبر 2025 کی رپورٹ میں بتایا ہے کہ انسدادِ اسموگ کے لیے حکومتی اداروں اور عوامی سطح پر کیے گئے اقدامات سے مجموعی صورتحال میں معمولی بہتری آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ای پی اے کی ٹیموں نے اکتوبر کے دوران 28 ہزار 675 معائنے مکمل کیے، جن میں آلودگی پھیلانے والے کارخانوں اور برک کلنز کے خلاف کارروائیاں شامل تھیں۔

محکمہ کے مطابق غیر قانونی یا ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے یونٹس کے خلاف 707 نوٹسز، 381 ڈیمولیشنز، 521 سیلنگز، 567 ایف آئی آرز درج کی گئیں اور مجموعی طور پر 5 کروڑ 88 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔ پلاسٹک فری پنجاب مہم کے تحت 28.

8 ٹن پلاسٹک بیگز ضبط کیے گئے جبکہ صنعتی علاقوں میں 32 مسٹ سپرنکلنگ سسٹمز اور 79 واٹر ری سائیکلنگ پلانٹس نصب کیے گئے ہیں۔

تعلیمی اداروں میں ماحولیاتی آگاہی کو فروغ دینے کے لیے 2070 اسکولوں میں ویسٹ سیگریگیشن ایس او پیز پر عمل درآمد کروایا گیا۔ اسی طرح 163 واٹر سیمپلنگ، 112 فیول کوالٹی ٹیسٹ اور 89 اسٹیک ایمیشن چیک کیے گئے تاکہ پانی اور ہوا دونوں کے معیار کی مسلسل نگرانی کی جا سکے۔

ٹرانسپورٹ سیکٹر میں 763 ہیوی گاڑیوں کا معائنہ اور 7042 ای ٹی ایس ٹیسٹنگز مکمل کی گئیں، جس سے گاڑیوں کے دھوئیں سے اخراج میں کمی دیکھی گئی ہے۔ عوامی سطح پر بھی ماحولیاتی شعور میں اضافہ ہوا ہے اور 21 ہزار 983 شہریوں نے پلاسٹک فری پلیجز پر دستخط کیے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی ہے کہ اسموگ کے مستقل تدارک کے لیے فیلڈ آپریشنز میں جدید ٹیکنالوجی، ڈرون مانیٹرنگ اور ڈیٹا بیس رپورٹنگ کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے۔

سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق حکومت کی ماحولیاتی حکمت عملی محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک جامع نظام کی عکاسی کرتی ہے، جس میں عوامی تعاون، صنعتی نظم و ضبط اور تعلیمی آگاہی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کو سموگ فری بنانا صرف ایک مہم نہیں، بلکہ ایک اجتماعی تحریک ہے۔

Tagsپاکستان

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل کے مطابق کیے گئے

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی