امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا معافی کے باوجود بی بی سی کے خلاف کیس کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا معافی کے باوجود بی بی سی کے خلاف کیس کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 15 November, 2025 سب نیوز
واشنگٹن (آئی پی ایس) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متنازع ڈاکیومنٹری پر معافی کے باوجود برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کےخلاف ایک ارب ڈالر ہرجانے کا کیس دائر کرنےکا اعلان کردیا۔
اپنے طیارے میں میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کیس ممکنہ طور پر امریکا میں ہی دائر کیا جائےگا اس سلسلےمیں برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے بھی بات ہوگی۔
امریکی صدر نے مزید کہا سعودی عرب کی فائٹرجیٹ کی درخواست پرغور جاری ہے،ہم بھی دوسرے ملکوں کی طرح ایٹمی تجربات کریں گے،وینزویلا سے متعلق فیصلہ کرچکے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربشریٰ بی بی کے روحانی اثر کے نتیجے میں عمران اپنا اصلاحاتی ایجنڈا نافذ کرنے میں ناکام رہے، برطانوی جریدہ بشریٰ بی بی کے روحانی اثر کے نتیجے میں عمران اپنا اصلاحاتی ایجنڈا نافذ کرنے میں ناکام رہے، برطانوی جریدہ مقبوضہ کشمیر؛ پولیس اسٹیشن میں دھماکا، 7 افراد ہلاک 27 زخمی دہشت گردوں کے کسی بھی گروپ سے مذاکرات نہیں کریں گے: پاکستان پیپلزپارٹی نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی عدلیہ کا کردار بڑا تاریک رہا، ان ججز کا ضمیر دہائیوں سے سویا ہوا تھا، وزیر دفاع پیپلزپارٹی نے فیصل راٹھور کو وزیراعظم آزاد کشمیر کےلئے نامزد کردیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔