سکھرسول اسپتال،پیڈسٹر فیس گرنے سے مریض خاتون شدید زخمی
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251111-05-1
سکھر (نمائندہ جسارت )سکھر سول اسپتال میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں غفلت اور لاپرواہی کا ایک اور سنگین واقعہ، جہاں اسپتال کے میڈیکل یونٹ ون میں زیرِ علاج 60 سالہ خاتون کے اوپر اچانک پیڈسٹر فین گرنے سے خاتون شدید زخمی ہوگئیں، سرحد کے گاؤں عمر ڈرھو کی رہائشی ضعیف العمر خاتون فاطمہ علاج کی غرض سے سکھر سول اسپتال کے میڈیکل یونٹ ون میں داخل تھیں۔ عینی شاہدین کے مطابق، اچانک وارڈ کی چھت سے نصب پیڈسٹر فین تیز آواز کے ساتھ خاتون کے اوپر آ گرا، جس کے باعث وہ شدید زخمی ہوئیں اور وارڈ میں موجود دیگر مریضوں اور تیمارداروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔زخمی خاتون کو فوری طور پر اسپتال عملے نے آپریشن تھیٹر منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق فاطمہ کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ خاتون کے سر اور چہرے پر گہری چوٹیں آئیں، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔واقعے کے بعد اسپتال انتظامیہ حرکت میں آگئی اور متعلقہ یونٹ کے انچارج کو واقعے کی ابتدائی رپورٹ طلب کرلی ۔ اسپتال ذرائع کے مطابق پرانے وارڈز میں لگے برقی آلات کی حالت خستہ ہے، اور اس سے قبل بھی متعدد بار انکی مرمت یا تبدیلی کیلیے متعلقہ حکام کو آگاہ کیا ہے، تاہم کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں اٹھایا گیا۔عوامی حلقوںنے سول اسپتال انتظامیہ اور محکمہ صحت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی انکوائری کرائی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔