یہودیوں کا مغربی کنارے میں مسجد پر حملہ، توڑ پھوڑ، آگ لگا دی
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
یہودی آبادکاروں نے مغربی کنارے کے شمالی علاقے میں واقع گاؤں دیر استیا میں مسجد پر حملہ کر دیا، مسجد میں توڑ پھوڑ کی اور آگ لگا دی۔ دیواروں پر نسل پرستانہ جملے لکھے۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے کارروائیوں کے دوران 15 فلسطینیوں کو گرفتار بھی کیا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل کی غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں نہ تھم سکیں۔ غزہ کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فوج اور غیر قانونی یہودی آبادکاروں کی کارروائیاں جاری ہیں۔ یہودی آبادکاروں نے مغربی کنارے کے شمالی علاقے میں واقع گاؤں دیر استیا میں مسجد پر حملہ کر دیا، مسجد میں توڑ پھوڑ کی اور آگ لگا دی۔ دیواروں پر نسل پرستانہ جملے لکھے۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے کارروائیوں کے دوران 15 فلسطینیوں کو گرفتار بھی کیا۔
ادھر اسرائیلی فوج نے غزہ میں آج بھی 3 مختلف مقامات پر حملے کیے، خان یونس میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سعودی عرب نے اسرائیلی فوج اور یہودی آبادکاروں کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ فلسطینی حکام نے مسجد پر حملے کو نفرت پر مبنی جرم قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے فوری ایکشن لینے کی اپیل کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔