اسرائیلی فوج کی مقبوضہ مغربی کنارے میں فائرنگ، فلسطینی نوجوان شہید
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے پناہ گزین کیمپ پر چھاپے کے دوران نوجوان فلسطینی کو شہید کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں نابلس کے مشرق میں پناہ گزین کیمپ پر چھاپے کے دوران ایک نوجوان فلسطینی کو شہید کر دیا ہے۔
ہلال احمر نے بتایا کہ حسن شرقاسی اسرائیلی فورسز کی گولی لگنے کے بعد شہید ہوگیا۔ طبی ماہرین نے بتایا کہ چھاپے کے دوران ایک اور فلسطینی نوجوان کو بھی گولی لگی۔
ہلال احمر کے مطابق شرقاسی کو پیٹ میں گولی لگی۔ پیرامیڈیکس نے اسے نابلس کے رفیعہ اسپتال لے جانے کے دوران اسے زندہ رکھنے کی کوشش کی لیکن ہستپال پہنچنے کے فوراً بعد اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔
اسرائیلی فورسز نے رات بھر عسکر کیمپ پر چھاپے مارے اور آس پاس کے علاقوں میں پیادہ دستوں کو تعینات کیا۔ ہلال احمر نے کہا کہ فلسطینیوں پر براہِ راست گولہ بارود اور اسٹن گرینیڈ بھی فائر کیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے دوران
پڑھیں:
ہولناک سانحہ، ایک شخص نے خاندان کے 6 افراد کو قتل کرکے خود کو گولی مار دی
واشنگٹن: امریکا کی ریاست آئیووا کے شہر مسکیٹین میں ایک افسوسناک فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص نے اپنے ہی خاندان کے 6 افراد کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرلی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ واقعہ پیر کے روز مشرقی آئیووا کے شہر مسکیٹین میں پیش آیا، جو دریائے مسیسیپی کے کنارے واقع ہے۔
پولیس کے ابتدائی بیان کے مطابق واقعے کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ فائرنگ کا تعلق ایک گھریلو یا خاندانی تنازع سے تھا، تاہم حکام نے ابھی تک تنازع کی نوعیت یا اس کے پس منظر کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
پولیس کو دوپہر کے وقت فائرنگ کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے تو ایک گھر کے اندر چار افراد کی لاشیں ملیں، جنہیں گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق مشتبہ ملزم موقع سے فرار ہوچکا تھا، تاہم جلد ہی اس کی شناخت 52 سالہ ریان ولیس میک فارلینڈ کے نام سے کرلی گئی، جو مسکیٹین کا رہائشی تھا۔
بعد ازاں پولیس نے ملزم کو شہر کے دریا کنارے واقع پیدل چلنے کے راستے کے قریب تلاش کرلیا۔ پولیس چیف انتھونی کیز کے مطابق جب افسران اس سے بات چیت کر رہے تھے تو اس نے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں مجموعی طور پر سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں چھ خاندان کے افراد اور خود ملزم شامل ہے۔ پولیس نے مزید کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تمام حقائق سامنے آنے کے بعد مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔
امریکا میں گھریلو تنازعات سے جڑے فائرنگ کے واقعات ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئے ہیں، جبکہ اس افسوسناک سانحے نے مقامی کمیونٹی کو شدید صدمے میں مبتلا کردیا ہے۔