اسرائیل! مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے باہر نکلے، اقوام متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
اپنی ایک رپورٹ میں ہیومن رائٹس کا کہنا تھا کہ سال کے آغاز سے اب تک صیہونیوں نے ویسٹ بینک میں 45 بچوں کو شہید کیا۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس نے کہا کہ مقبوضہ سرزمین سے فلسطینیوں کی مستقل بے دخلی جنگی جرائم کی حد تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا مغربی کنارے پر خودمختاری کا دعویٰ اور اس کے کچھ حصوں کو اپنے ساتھ ملا لینا، بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ہیومن رائٹس نے اپنے جاری بیان میں مزید کہا کہ غاصب صیہونی آباد کاروں و فورسز کا فلسطینیوں کے گھروں کو تباہ کرنا اور اموال کو لوٹنا انسانی حقوق کے نظام کی پامالی ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، سال 2025ء کی ابتداء ہی سے مغربی کنارے میں اجازت نہ ہونے کے بہانے کئی گھروں کو گرانے کے عمل کی وجہ سے، 1500 سے زیادہ فلسطینی خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق، صرف ایک ہفتے کے دوران غاصب صیہونی آبادکاروں کے حملوں میں 4 بچوں سمیت 30 فلسطینی زخمی ہوگئے۔ سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر میں جنین، نور شمس اور طولکرم کے کیمپوں میں تقریباً 1460 عمارتوں کو تباہ ہوتے دکھایا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 4 سے 10 نومبر کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے ویسٹ بینک میں 3 بچوں سمیت 4 فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی سال کے آغاز سے اب تک صیہونیوں نے ویسٹ بینک میں 45 بچوں کو شہید کیا۔ فلسطینی ہسپتالوں سے متعلق ذرائع نے خبر دی کہ مغربی کنارے میں ان حملوں کے نتیجے میں 1071 فلسطینی شہید ہوئے اور تقریباً 10 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق "فولکر ٹورک" نے فلسطینی عوام پر صیہونی حملوں کی فوری بندش كا مطالبہ کیا۔ انہوں نے كہا كہ ان جرائم کے مرتکب کرداروں کو کٹہرے میں لانا چاہئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔