Islam Times:
2026-06-03@03:35:27 GMT

اسرائیل! مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے باہر نکلے، اقوام متحدہ

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

اسرائیل! مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے باہر نکلے، اقوام متحدہ

اپنی ایک رپورٹ میں ہیومن رائٹس کا کہنا تھا کہ سال کے آغاز سے اب تک صیہونیوں نے ویسٹ بینک میں 45 بچوں کو شہید کیا۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس نے کہا کہ مقبوضہ سرزمین سے فلسطینیوں کی مستقل بے دخلی جنگی جرائم کی حد تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا مغربی کنارے پر خودمختاری کا دعویٰ اور اس کے کچھ حصوں کو اپنے ساتھ ملا لینا، بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ہیومن رائٹس نے اپنے جاری بیان میں مزید کہا کہ غاصب صیہونی آباد کاروں و فورسز کا فلسطینیوں کے گھروں کو تباہ کرنا اور اموال کو لوٹنا انسانی حقوق کے نظام کی پامالی ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، سال 2025ء کی ابتداء ہی سے مغربی کنارے میں اجازت نہ ہونے کے بہانے کئی گھروں کو گرانے کے عمل کی وجہ سے، 1500 سے زیادہ فلسطینی خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق، صرف ایک ہفتے کے دوران غاصب صیہونی آبادکاروں کے حملوں میں 4 بچوں سمیت 30 فلسطینی زخمی ہوگئے۔ سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر میں جنین، نور شمس اور طولکرم کے کیمپوں میں تقریباً 1460 عمارتوں کو تباہ ہوتے دکھایا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 4 سے 10 نومبر کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے ویسٹ بینک میں 3 بچوں سمیت 4 فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی سال کے آغاز سے اب تک صیہونیوں نے ویسٹ بینک میں 45 بچوں کو شہید کیا۔ فلسطینی ہسپتالوں سے متعلق ذرائع نے خبر دی کہ مغربی کنارے میں ان حملوں کے نتیجے میں 1071 فلسطینی شہید ہوئے اور تقریباً 10 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق "فولکر ٹورک" نے فلسطینی عوام پر صیہونی حملوں کی فوری بندش كا مطالبہ کیا۔ انہوں نے كہا كہ ان جرائم کے مرتکب کرداروں کو کٹہرے میں لانا چاہئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت