اسرائیلی کی کارروائیاں جاری، مغربی کنارے میں 2 بچے شہید، غزہ میں 51 لاشیں برآمد
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251115-01-18
غزہ /اتل بیب (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کی غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، صہیونی فوج نے گزشتہ روزپھر غزہ سٹی، بیت لاہیا اور خان یونس میں فضائی حملے کیے ، توپ خانے سے گولا باری کی ۔قابض فوج نے مغربی کنارے میں بھی 2 بچوں کو گولیاں مار کر شہید کردیا، اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے، آپریشن کے دوران گھر گھر تلاشی لی گئی۔مسلسل خلاف ورزیوں پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس نے غزہ جنگ بندی معاہدے کو نازک قرار دیدیا۔ انہوں نے مکمل امن کے لیے معاہدے کا احترام کرنے کی اپیل کردی۔دوسری جانب غزہ میں اجتماعی قبر سے51 لاشیں ملیں۔ غزہ کی سول ڈیفنس ادارے کے ترجمان نے کہا کہ اب بھی درجنوں خاندان تباہ شدہ گھروں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جن کی لاشیں تاحال نہیں نکالی جاسکیں‘شدید تباہی اور محدود مشینری کے باعث ریسکیو ٹیموں کو ملبہ ہٹانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔غزہ میں انٹرمیڈیٹ بورڈ کے امتحانات کے نتائج میں11 فلسطینی لڑکیوں نے 99 فیصد نمبر لیکر ٹاپ پوزیشن حاصل کرلی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے باوجود غزہ کے نوجوان اپنے بہتر مستقبل کے لیے کوشاں ہیں اور مشکل حالات میں بھی تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ نتائج کے بعد اسرائیلی مظالم کا شکار فلسطینیوں میں خوشیوں کی لہر دوڑ گئی اور کامیاب طالبہ کے خاندانوں نے تباہ حال علاقوں میں جشن منایا۔رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ انٹرمیڈیٹ میں کامیابی حاصل کرنے والے بیشتر طلبہ اور طالبات اسرائیلی فوج کی بمباری میں جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ حماس نے ایک اور اسرائیلی یرغمالی کی لاش واپس کردی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ حماس نے غزہ سے ملنے والی اسرائیلی یرغمالی کی لاش ریڈ کراس کے سپرد کردی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم آفس کے مطابق بعد ازاں ریڈ کراس نے 73 سالہ اسرائیلی یرغمالیMeny Godard کی لاش اسرائیلی فوج کے سپرد کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔