لبنان پر اسرائیلی قبضے نے اقوام متحدہ کو بھی بولنے پر مجبور کردیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں یونیفل کا کہنا تھا کہ لبنانی سرزمین پر اسرائیل کی موجودگی اور تعمیراتی اقدامات، سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی واضح خلاف ورزی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آج لبنانی سرزمین پر صیہونی رژیم کی جارحیت میں اضافے کے خلاف، اقوام متحدہ کے امن دستے یونیفل نے کھل کر تنقید کی۔ یونیفل نے کہا کہ لبنانی سرزمین پر اسرائیل کی موجودگی اور تعمیراتی اقدامات، سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی واضح خلاف ورزی ہے۔ نیز یہ امر لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بھی پامالی ہے۔ یونیفل نے کہا کہ صیہونی فوجیوں کو ہر صورت مقبوضہ علاقوں سے باہر نکلنا چاہئے۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے اِس امن دستے نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے جنوب مغربی یارون میں جو دیوار بنائی ہے وہ "بلیو لائن" سے آگے نکل گئی ہے جس کی وجہ سے لبنان کی 4000 مربع میٹر زمین تک رسائی ممکن نہیں رہی۔ اس لئے اسرائیل! بلیو لائن کا مکمل احترام کرے اور اس کے شمال میں واقع تمام علاقوں سے نکل جائیں۔
واضح رہے کہ بلیو لائن ایک بارڈر کراسنگ ہے جو لبنان کو مقبوضہ فلسطین اور شام کی گولان ہائٹس سے جدا کرتی ہے۔ یہ بلیو لائن 7 جون 2000ء كو یہ متعین کرنے کے لئے بنائی گئی کہ کیا اسرائیل، لبنان سے مکمل طور پر نکل گیا ہے یا نہیں۔ اس لائن کو عارضی سرحد یا سرحد قرار دینے کی بجائے ایک انخلاء لائن قرار دیا گیا، لیکن اس کے باوجود اسرائیلی فوج اس لائن کی کوئی پرواہ نہیں کرتی۔ دوسری جانب مقاومتی تحریک حزب الله اس بات پر زور دے رہی ہے کہ اسرائیل ہر صورت جنگ بندی کے معاہدے کی شرائط پر عمل کرے، جس کے تحت اسے 5 مقبوضہ علاقوں سے مکمل طور پر دستبردار ہونا چاہئے۔ اس کے علاوہ لبنانی حکومت امریکہ کی ڈکٹیشن پر عمل پیرا ہے اور اپنی سرزمین کے اندر صیہونی رژیم کے قبضے کے خلاف عملی کارروائی کرنے کی ہمت نہیں کر رہی۔ لبنانی حکومت محض اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا ڈھول پیٹ رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بلیو لائن
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔