اسرائیلی آبادکاروں نے مسجد کو آگ لگا دی، 25 فلسطینی گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
آتش گیر مواد چھڑک کر آگ لگانے کی کوشش،مسجد کی دیواروں پر نسل پرستانہ نعرے
اسرائیل کے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں چھاپے اور گرفتاریاں ،فلسطینی حکام
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں نے ایک مسجد کو آگ لگا دی جبکہ اسرائیلی فورسز نے مختلف علاقوں میں چھاپوں کے دوران 25 فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا۔فلسطینی خبر رساں ادارے وفا نیوز ایجنسی کے مطابق واقعہ مغربی کنارے کے شہر سلفیت کے قریب پیش آیا، جہاں اسرائیلی آبادکاروں نے مسجد کے دروازے پر آتش گیر مواد چھڑک کر آگ لگانے کی کوشش کی۔ رپورٹ کے مطابق آبادکاروں نے مسجد کی دیواروں پر نسل پرستانہ نعرے بھی لکھے۔ تاہم مقامی شہریوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا۔دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں تازہ کارروائیوں کے دوران 25 فلسطینی شہریوں کو گرفتار کیا۔ رپورٹ کے مطابق طولکرم کے قریب دیر الغصون کے علاقے میں تین نوجوانوں کو گھروں پر چھاپے مار کر حراست میں لیا گیا۔اسی طرح الخلیل کے قریب دورا کے علاقے میں 18 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ جنوبی الخلیل میں بزرگوں سمیت کئی شہریوں سے فیلڈ انویسٹی گیشن بھی کی گئی۔ مزید برآں نابلس کے جنوب میں بیتا اور قریوت کے علاقوں سے چار افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیلی فورسز کی جانب سے چھاپے اور گرفتاریاں تقریباً روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں، جنہیں عالمی برادری نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ا بادکاروں نے کے مطابق
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔