وطنِ عزیز کی حفاظت کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر سپوتوں میجر واصف حسین شاہ شہید، میجر محمد حسیب شہید اور حوالدار نور احمد شہید کی لازوال قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ملک بھر میں دعائیہ تقریبات منعقد کی گئیں۔

میجر واصف حسین شاہ شہید کی 11ویں اور میجر محمد حسیب شہید اور حوالدار نور احمد شہید کی پہلی برسی کے موقع پر قوم نے شہداء کے بلند حوصلے، شجاعت اور عزم کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔

میجر واصف حسین شاہ شہید نے 15 نومبر 2014ء کو آپریشن ضربِ عضب کے دوران دشمن کے خلاف دلیری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی غیر معمولی بہادری کے اعتراف میں انہیں ستارۂ بسالت سے نوازا گیا۔

اسی جذبۂ شہادت کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے میجر محمد حسیب شہید اور حوالدار نور احمد شہید نے 14 نومبر 2024ء کو بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشن میں جرات و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جانیں وطن پر نچھاور کر دیں۔

قوم کے ہر فرد نے شہداء کے اہلِ خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عظیم سپوت پاکستان کا فخر ہیں۔ شہداء کی بے مثال قربانیاں اور ثابت قدمی وطنِ عزیز کی تاریخ کا روشن باب اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

قوم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہداء کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی اور پاکستان کی سرزمین کے تحفظ کے لیے ان کا حوصلہ، ان کی بہادری اور ان کا جذبہ ہمیشہ دلوں میں زندہ رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی