صدر مملکت اور وزیراعظم کا باہمی احترام کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
صدر مملکت اور وزیراعظم کا باہمی احترام کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ WhatsAppFacebookTwitter 0 16 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: (آئی پی ایس) صدر مملکت اور وزیراعظم پاکستان نے باہمی احترام کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج برداشت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، یہ دن 1995ء سے یونیسکو کے زیراہتمام منایا جاتا ہے جس کا مقصد عدم برداشت کے خطرات سے عوامی آگاہی کو فروغ دینا اور مختلف ثقافتوں اور معاشروں کے مابین احترام اور مفاہمت کو بڑھانا ہے۔
یومِ برداشت پر بین الاقوامی برادری کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کا آئین مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کی مکمل ضمانت دیتا ہے، پاکستان رواداری، امن اور باہمی احترام کے فروغ کے لئے پُرعزم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام انسانیت، شفقت اور عدل کا درس دیتا ہے، حکومت سماجی و مذہبی استحصال کے خاتمے کیلئے کوشاں ہے، غیر مسلم شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہماری ترجیح ہے، بین المذاہب ہم آہنگی پالیسی پر بھرپور عملدرآمد جاری ہے، نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز رائٹس بل 2025 اہم پیش رفت ہے۔
آصف علی زرداری نے تمام شہریوں، خصوصاً نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ہر قسم کے تعصب، امتیاز اور نفرت کے خلاف آواز بلند کریں، انہوں نے علمائے کرام، اقلیتی رہنماؤں اور میڈیا سے بھی اپیل کی کہ وہ محبت، رواداری، بھائی چارے اور اتحاد کے پیغام کو عام کریں تاکہ پاکستان کو ایک ایسا ملک بنایا جا سکے جہاں سماجی ہم آہنگی اور اتحاد قومی شناخت بن جائے۔
دوسری جانب وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان کا آئین و قوانین اور انسانی حقوق کے عالمی کنونشنز کی بنیادی روح، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اورتحمل و برداشت کا پیغام لئے ہوئے ہے، تحمل و برداشت نہ صرف معاشرتی حسن ہے بلکہ یہ اسلامی تعلیمات کے بھی عین مطابق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان بھی ہر شہری کو برابری اور تحفظ فراہم کرتا ہے اور ہر شہری کا بھی یہ فرض عین ہے کہ وہ بین المذاہب ہم آہنگی اور ایک دوسرے کے ساتھ برداشت و بردباری کی اقدار کو فروغ دے۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومتی پالیسی کو مرتب کرتے وقت سماجی و مذہبی تفرقوں کو ختم کرنا اور تمام طبقات بالخصوص اقلیتوں کی قومی دھارے میں ہر ممکن شمولیت حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، آج کے دن تجدید عہد کرنا ہوگا کہ تحمل و برداشت جیسی نیک اقدار کو نہ صرف ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی بلکہ سیاسی، مذہبی اورتہذیبی روایات کا بھی حصہ بنائیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرائیل نے مزید 15 فلسطینیوں کی لاشیں ریڈ کراس کے حوالے کردیں باغوں کا شہر لاہور دنیا کے آلودہ شہروں میں آج بھی دوسرے نمبر پر لفظ ’’پاکستان‘‘ کے موجد چودھری رحمت علی کا آج یوم ولادت منایا جا رہا ہے وزیراعظم اور شاہ اردن کے درمیان ملاقات، دوطرفہ تعلقات، دفاعی تعاون سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کراچی میں اب تک 61 ہزار 850 سے زائد ای چالان ، اعداد و شمار سامنے آگئے کے پی حکومت کا برطانوی جریدے کے خلاف عالمی فورم سے رجوع کرنے کا اعلان بہار الیکشن؛ مودی نے کسی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا؛ اپوزیشن کے 11 مسلم امیدوار کامیابCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: باہمی احترام صدر مملکت کو فروغ
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔