نیوجرسی : سابق اسرائیلی وزیرِ دفاع کے پروگرام کیخلاف احتجاج، پولیس کا مظاہرین پر تشدد
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیوجرسی: امریکی ریاست نیوجرسی میں سابق اسرائیلی وزیرِ دفاع یوآف گیلنٹ کے پروگرام کے خلاف فلسطین کے حامی مظاہرین پر پولیس نے طاقت کا استعمال کیا، امریکا کے شہر لیونگسٹن میں درجنوں مظاہرین ایک یہودی عبادت گاہ کے باہر جمع ہوئے جہاں یوآف گیلنٹ کو خطاب کے لیے بلایا گیا تھا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین فلسطینی پرچم اٹھائے اور کفیہ اوڑھے ہوئے نعرے لگا رہے تھے، انہوں نے بینرز تھام رکھے تھے جن پر لکھا تھا، بچوں کی حفاظت کرو، گیلنٹ کو گرفتار کرو اور گیلنٹ نسل کشی کا مجرم ہے، احتجاجی مظاہرین نے فری فلسطین کے نعرے بھی لگائے اور گیلنٹ کو غزہ میں عام شہریوں کے قتلِ عام کا ذمہ دار قرار دیا۔
جب مظاہرین نے عبادت گاہ کے داخلی راستے کو بند کیا تو پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی شروع کی، اس دوران پولیس اہلکاروں نے کئی مظاہرین کو زمین پر گرا کر گرفتار کیا، عینی شاہدین کے مطابق پولیس کا رویہ انتہائی سخت تھا اور بعض مظاہرین کو گھسیٹ کر گاڑیوں میں بٹھایا گیا۔
خیال رہےکہ یوآف گیلنٹ نے 2022 سے 2024 تک اسرائیل کے وزیرِ دفاع کے طور پر خدمات انجام دیں۔ گزشتہ سال نومبر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور یوآف گیلنٹ کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم اور مظالم کے الزامات پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔
واضح رہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 69 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جب کہ عالمی برادری کی خاموشی بدستور برقرار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یوآف گیلنٹ
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔