نواز شریف اسکول آف ایمیننس: طلبا کے لیے مکمل فری ایجوکیشن پیکیج متعارف
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں معیاری تعلیم کے فروغ اور تعلیمی تفاوت کے خاتمے کے لیے ایک اہم انقلابی منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں 1500 جدید طرز کے اسکول آف ایمیننس قائم کیے جائیں گے، جو سرکاری تعلیمی نظام کو دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں سے ہم آہنگ کریں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر یہ اسکول مکمل طور پر مفت ہوں گے، کسی بھی طالب علم سے کوئی فیس نہیں لی جائے گیم پنجاب حکومت ہر طالب علم کی تعلیم پر ماہانہ 5,000 روپے خرچ کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کلائمٹ چینج واریئر قرار
نواز شریف ایمیننس اسکول میں مفت کتابیں، یونیفارم، جدید لیبز، اسمارٹ کلاس رومز، لیپ ٹاپ اور دیگر تمام سہولیات شامل ہوں گی، جو صاحب استطاعت شہریوں سے ماہانہ فیس لی جائے گی، ایک اسکول کے اندر کم سے کم 20 کلاس رومز لازمی ہوں گے۔
https://Twitter.
یہ اسکولز کلاس اول سے دسویں جماعت تک ہوں گے، جن میں انگلش میڈیم نصاب، تربیت یافتہ اساتذہ، سائنس، کمپیوٹر، روبوٹکس اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس لیبز، جدید لائبریریاں، کھیلوں کے میدان اور غیر نصابی سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
نواز شریف اسکول آف ایمیننس کے اسکول پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن یعنی پیف کو دیے جائیں گے، حکومت کی جانب سے لڑکوں اور لڑکیوں کے اسکولز ساتھ ساتھ تعمیر کیے جائیں گے، ہر اسکول تقریباً 4 سے 6 کنال تک محیط ہو گا۔
مزید پڑھیں: پنجاب حکومت کا اینفورسمنٹ اینڈ ریگولیشنز اتھارٹی کو مزید خودمختاری دینے کا فیصلہ
جس اسکول میں کلاس رومز ائیر کنڈیشنر ہوں گے اس اسکول کو فی بچہ 3 سو روپے اضافی دیا جائے گا، ہر کلاس میں 35 کے قریب بچے ہونا لازمی ہیں، ہرسکول میں کھیل کا میدان ہونا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے
موجودہ تعلیمی سال میں 400 اسکول آف ایمیننس فوری طور پر قائم کیے جا رہے ہیں، جن میں سے 100 سرکاری اسکولوں کو اپ گریڈ کیا جائے گا جبکہ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے 300 پارٹنر اسکولوں کو اسکول آف ایمینینس میں تبدیل کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا افغانستان کی جارحیت پر سخت ردِعمل، پاک فوج کو خراج تحسین
آئندہ مرحلے میں پنجاب کی ہر تحصیل میں کم از کم 10،10 اسکول آف ایمیننس قائم کیے جائیں گے، جن کی کل تعداد 1500 تک پہنچ جائے گی، اس پروگرام میں نجی ایجوکیشن چینز، این جی اوز اور تعلیمی شعبے سے وابستہ انٹرپرینیورز کو بھی شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔
ترجمان اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد پسماندہ اور دیہی علاقوں کے بچوں سمیت صوبے کے ہر بچے کو عالمی معیار کی تعلیم تک رسائی دینا ہے، ان اسکولوں میں داخلہ مکمل طور پر میرٹ پر ہوگا اور غریب، دیہی اور ہونہار طلبہ و طالبات کو ترجیح دی جائے گی۔
مزید پڑھیں: پنجاب حکومت نے مینوئل اسلحہ لائسنس کی کمپیوٹرائزیشن اور توثیق کا عمل روک دیا
اسکول آف ایمیننس پروگرام کے لیے دلچسپی رکھنے والے سرکاری و نجی اداروں، این جی اوز اور پارٹنرز سے درخواست ہے کہ وہ 5 دسمبر 2025 تک اپنی درخواستیں جمع کرائیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس پروگرام کو پنجاب کی تعلیمی تاریخ کا سب سے بڑا اور انقلابی قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب کوئی بچہ پیسوں کی وجہ سے معیاری تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔ ’ہمارا خواب ہے کہ پنجاب کا ہر بچہ دنیا کے بہترین اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں سے مقابلہ کر سکے۔‘
یہ منصوبہ نہ صرف سرکاری اسکولوں کے معیار میں انقلاب لائے گا بلکہ پرائیوٹ اسکولوں کے مقابلے میں غریب اور متوسط طبقے کے والدین کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسکول آف ایمیننس اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ این جی اوز پرائیوٹ پسماندہ دیہی نواز شریف
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکول ا ف ایمیننس این جی اوز پرائیوٹ دیہی نواز شریف اسکول آف ایمیننس پنجاب حکومت مریم نواز نواز شریف جائیں گے اسکول ا جائے گی کے لیے ہوں گے
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔