پنجاب کے ضلع سیالکوٹ  میں 13 سالہ کم سن بچی اغوا کے بعد افغانستان منتقل کردی گئی اور اس کی واپسی کے لیے 50 لاکھ تاوان طلب کرلیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق والد کی مدعیت میں درج ہونے والے مقدمے نے نیا رخ اختیار کر لیا جب کہ 22روز قبل اغوا ہونے والی 13 سالہ ثمینہ بازیاب نہ ہو سکی۔

13 سالہ ثمینہ اغوا کے بعد افغانستان منتقل ہوگئی، اغوا کاروں نے ثمینہ کی رہائی کے بدلے 50 لاکھ تاوان طلب کر لیا۔

22روز قبل عبدالحق نامی شخص نے اپنی بیٹی کے اغوا کا مقدمہ درج کروایا تھا، 13 سالہ کم سن ثمینہ کی بازیابی تھانہ کوتوالی پولیس کے لیے چیلنج بن گئی ہے،  بچی کی بازیابی کے لیے مغویہ کے والد نے وزیراعلی پنجاب سے اپیل کی اور کہا کہ سیالکوٹ پولیس ہمارے ساتھ تعاون نہیں کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نامزد ملزمان کو پکڑ کر چھوڑ دیا ہے، ایس ایچ او کوتوالی الطاف گھمن  نے کہا کہ بچی کو برآمد کروانے کے لیے ییلو وارنٹ جاری کروا رہے ہیں، افغانستان انٹر پول سےرابطہ کیا جائے گا۔

ترجمان پولیس سیالکوٹ  نے کہا کہ بچی بایاب کروانے کی کوشیش کررہے ہیں، جلد بچی بایاب کرواکر اغواکار کو گرفتار کرلیا جائے گا۔

 ترجمان نے کہا کہ  ڈی پی اوفیصل شہزاد نے واقعہ رہورٹ طلب کرلی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی