راولپنڈی (ویب ڈیسک) کرپشن کے الزام میں گرفتارسابق اے ڈی سی آر سیالکوٹ اقبال سنگھیڑا راولپنڈی پولیس کی حراست سے فرار ہوگیا، دعویٰ کیا گیا ہے کہ راولپنڈی پولیس ملزم کو تھانہ اینٹی کرپشن راولپنڈی کے ایک مقدمہ میں عدالت میں پیشی کے لئے راولپنڈی لائی تھی جہاں پیشی کے بعدواپس لاہورجاتے ہوئے ملزم کابھائی اسے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پولیس کی حراست سے لے کرفرار ہوگیا۔

روزنامہ جنگ کے ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن پنجاب نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرریونیوسیالکوٹ محمد اقبال سنگھیڑا کورواں برس یکم اگست سیالکوٹ میں ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے این اوسی کے بدلے کروڑوں روپے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کیاتھا ،پولیس نے تین روز اہم ملزم کے فرار کی خبر چھپائے رکھی،پولیس ملازمین کی غفلت ولاپرواہی پر تھانہ چکری راولپنڈی میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔یہ کیس لاہورکی اینٹی کرپشن عدالت میں چل رہاہے اور وہ اسی مقدمہ میں لاہور جیل میں پابند سلاسل تھا،اینٹی کرپشن حکام کاکہنا ہے کہ ملزم کے خلاف تھانہ اینٹی کرپشن راولپنڈی میں 2022 میں ایک ایف آئی آر نمبر16 بجرم 420،468،471ت پ5/2/47 درج ہوئی جس میں اس کی پیشی تھی اور اڈیالہ جیل گارد پولیس اسے پیشی کے لئے لاہورجیل سے راولپنڈی لائی تھی اور پیشی کے بعد واپس لاہور لے جاتے ہوئے وہ راولپنڈی پولیس کی مبینہ ملی بھگت سے چکری موٹروے کے قریب فرار ہوگیا۔

جن کے اکسانے پر داماد ریپ کرتا ہے، ساس نے مقدمہ درج کرادیا

رپورٹ کے مطابق  تھانہ چکری کوآرآئی جوڈیشل گارداڈیالہ جیل انسپکٹر اصغرنےایف آئی آردرج کرواتے ہوئے بتایاکہ تھانہ اینٹی کرپشن راولپنڈی میں درج 2022کے مقدمہ کے ملزم محمداقبال سنگھیڑا جوکہ لاہور جیل میں بند تھا ،کی 13نومبر کو سپیشل جج اینٹی کرپشن راولپنڈی کی عدالت میں تاریخ پیشی تھی جس کولینے کے اے ایس آئی ظفراقبال مع کانسٹیبلزیاسر ،احمد بلال سرکاری پک اپ گاڑی نمبر آرآئی جی 17 جو کو ڈرائیورکانسٹیبل محرم شہزاد چلارہاتھا ،12نومبر کولاہور گئے ،جومذکورہ پولیس اہل کاروں نے ملزم محمداقبال سنگھیڑا کو لاہورجیل سے زیرحراست لاکرمعزز عدالت سپیشل جج اینٹی کرپشن راولپنڈی میں پیش کیا ،اور اسی روز ملزم کوواپس بند کرانے کے لئے لاہورروانہ ہوئے۔

راولپنڈی، پاکستان اور سری لنکا ون ڈے سیریز میں 5500 اہلکاروں نے فول پروف سیکیورٹی فراہم کی

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: اینٹی کرپشن راولپنڈی راولپنڈی پولیس راولپنڈی میں پیشی کے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار