’ظہران ممدانی بھارتیوں سے نفرت کرتے ہیں‘، ٹرمپ جونیئر کا نیویارک شہر کے منتخب میئر سے متعلق دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
نیویارک سٹی کے نو منتخب میئر ظہران ممدانی حالیہ دنوں میں امریکی سیاسی مباحثے کا مرکزی موضوع بنے ہوئے ہیں۔
ایسے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے ایریک ٹرمپ نے ایک ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو کے دوران ظہران ممدانی سے متعلق کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
ایریک ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ممدانی ’بھارتیوں سے نفرت کرتے ہیں۔‘
ایرک ٹرمپ نے ظہران ممدانی کو ’سوشلسٹ، کمیونسٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اِن کی پالیسیوں سے نیویارک شہر کی مضبوطی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
ایریک ٹرمپ کے مطابق ممدانی کی جیت اس بات کی علامت ہے کہ ’انتہائی بائیں بازو کی پالیسیاں بڑے امریکی شہروں کو کمزور کر رہی ہیں۔‘
انہوں نے ظہران ممدانی پر الزام عائد کیا ہے کہ ممدانی قومی دھارے سے ہٹ کر ایسے اقدامات کرنا چاہتے ہیں جو شہر کے مالی اور انتظامی ڈھانچے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
ایرک ٹرمپ کا کہنا تھا کہ شہر کو ’صاف سڑکوں، محفوظ ماحول اور مناسب ٹیکس سسٹم‘ کی ضرورت ہے، نہ کہ حکومتی مداخلت پر مبنی تجربات کی۔
واضح رہے کہ 34 سالہ ظہران ممدانی یکم جنوری سے نیویارک کی باگ دوڑ سنبھالنے جا رہے ہیں۔
وہ نیویارک کی تاریخ کے پہلے مسلم، پہلے جنوبی ایشیائی اور پہلے افریقی نژاد میئر ہوں گے۔
سیاسی حملوں کے جواب میں ممدانی کا مؤقف
ظہران ممدانی نے ایریک ٹرمپ کے تازہ دعوؤں پر براہِ راست کوئی ردعمل نہیں دیا ہے تاہم وہ قبل ازیں ذاتی حملوں اور شہریت پر سوالات کو غیر سنجیدہ اور طاقت کے غلط استعمال کے مترادف قرار دے چکے ہیں۔
انتخابی رات کی تقریب کے دوران اُنہوں نے صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے اعتماد کا اظہار کیا تھا کہ نیویارک آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایریک ٹرمپ
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔