سعودی عرب اور امریکا کا اسٹریٹجک ڈیفینس سمیت متعدد اہم معاہدوں پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
سعودی عرب اور امریکا نے منگل کے روز متعدد معاہدوں پر دستخط کیے جن کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ پیش رفت سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وائٹ ہاؤس کے دورے کے موقع پر ہوئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شہزادہ محمد بن سلمان نے اسٹریٹجک ڈیفینس معاہدے پر دستخط کیے، جس کی تفصیل سعودی پریس ایجنسی نے جاری کی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے سعودی عرب کو اہم نان نیٹو اتحادی کا درجہ دیدیا
وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے باہمی تعلقات، اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے کی مشترکہ کوششوں، علاقائی و بین الاقوامی صورتِ حال، خطے اور دنیا کے امن و استحکام کو مضبوط بنانے کے اقدامات اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر گفتگو کی۔
https://Twitter.
اس موقع پر کئی دوطرفہ معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں بھی طے پائیں جن میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اسٹریٹجک شراکت داری، سول نیوکلیئر توانائی میں تعاون سے متعلق مذاکرات کی تکمیل کا مشترکہ اعلامیہ، یورینیم، معدنیات، مستقل میگنیٹس اور اہم دھاتوں کی سپلائی چین کے تحفظ کے لیے اسٹریٹجک فریم ورک شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ سے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ملاقات، سرمایہ کاری ایک ٹریلین ڈالر تک لے جانے کا اعلان
اس کے علاوہ سعودی سرمایہ کاری میں تیزی لانے کے طریقہ کار سے متعلق معاہدہ، مالی و اقتصادی شراکت داری کے انتظامات، مالیاتی مارکیٹ کے اداروں کے شعبے میں تعاون کے انتظامات، تعلیم و تربیت کے میدان میں مفاہمتی یادداشت، اور گاڑیوں کے حفاظتی معیارات سے متعلق لیٹرز بھی شامل ہیں۔
ملاقات کی صدارت صدر ٹرمپ اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مشترکہ طور پر کی، جبکہ اعلیٰ سعودی اور امریکی حکام بھی شریک تھے۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ کا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے اعزاز میں عشائیہ، کونسی اہم شخصیات شریک ہوئیں؟
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اسٹریٹجک ڈیفینس معاہدہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ سعودی عرب اور امریکا قابلِ اعتماد سکیورٹی شراکت دار ہیں اورعلاقائی و عالمی چیلنجزاورخطرات سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ معاہدہ طویل المدتی دفاعی تعاون کو مزید گہرا کرتا ہے، دفاعی صلاحیتوں اور تیاری کو مضبوط بناتا ہے اور دونوں ممالک کی دفاعی استعداد کے باہمی انضمام کی حمایت کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: ریاض میں بلیک ہیٹ 2025: سعودی عرب ایک بار پھر عالمی سائبر سیکیورٹی کا مرکز بننے کو تیار
سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا کہ یہ اسٹریٹجک معاہدہ دونوں ممالک کے پختہ عزم کا اظہار ہے جو اسٹریٹجک شراکت داری کو گہرا کرنے، علاقائی سلامتی کو مضبوط کرنے اور عالمی امن و استحکام کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔
امریکا میں سعودی سفیر شہزادی ریما بنت بندر نے کہا کہ یہ معاہدے دونوں ممالک میں سرمایہ کاری کے فروغ، سعودیوں اور امریکیوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور علاقائی و عالمی سلامتی کے مشترکہ عزم کو مضبوط کریں گے۔
مزید پڑھیں: سعودی وزیرِ دفاع کی وائٹ ہاؤس میں اعلیٰ امریکی حکام سے ملاقات
اس سے قبل اوول آفس میں صدر ٹرمپ نے شہزادہ محمد بن سلمان کا پُرتپاک استقبال کیا۔
اس موقع پر سعودی ولی عہد نے اعلان کیا کہ مملکت کی امریکی سرمایہ کاری کو بڑھا کر تقریباً ایک ٹریلین ڈالر تک لے جایا جائے گا، جو اس سال کے اوائل میں کیے گئے 600 ارب ڈالر کے وعدے سے کہیں زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایک تحفہ ہے اور اس کا اثاثہ اس کے لوگ ہیں، سعودی سفیر شہزادی ریما بنت بندر
شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ آج دونوں ممالک کی تاریخ کا انتہائی اہم لمحہ ہے۔
انہوں نے دہائیوں پر محیط امریکی اور سعودی شراکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کے حوالے سے بھی بہت سے شعبوں میں کام جاری ہے اور سعودی عرب کو امریکا کے مستقبل پر اعتماد ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے یہ معاہدے یکساں طور پر دونوں فریقین کے مفاد میں ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹریٹجک ڈیفنس معاہدہ امریکا اوول آفس سرمایہ کار سعودی عرب سعودی ولی عہد شراکت داری شہزادہ خالد بن سلمان شہزادہ محمد بن سلمان صدر ٹرمپ وزیر دفاع وہائٹ ہاؤس
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹریٹجک ڈیفنس معاہدہ امریکا اوول ا فس سرمایہ کار سعودی ولی عہد شراکت داری شہزادہ خالد بن سلمان وزیر دفاع وہائٹ ہاؤس سعودی ولی عہد دونوں ممالک سرمایہ کاری شراکت داری مزید پڑھیں کو مضبوط کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین