data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کوئٹہ: بلوچستان کے 36 اضلاع میں 10 سے 16 نومبر تک موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی۔

میڈیا ذرائع کے مطابق نیشنل ہائی وے این-70 کے لورالائی سیکشن پر تمام ٹرانسپورٹ سروسز کی آمدورفت 14 نومبر تک معطل رہے گی۔ سیکیورٹی الرٹ کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیش نظر یہ سروسز معطل رہیں گی۔

حکام نے بتایا کہ صوبے کے تمام دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل رہے گی، جبکہ کوئٹہ کو اس پابندی سے استثنیٰ ہوگا۔تاہم، شہریوں نے شکایت کی کہ کوئٹہ کے کئی علاقوں میں سگنلز دستیاب نہیں اور انٹرنیٹ تک رسائی میں دشواری کا سامنا ہے۔

صوبائی حکومت نے سیکیورٹی خدشات اور امن و امان کی صورتحال کے باعث نیشنل ہائی وے این -70 کے لورالائی سیکشن پر تمام ٹرانسپورٹ سروسز بشمول ٹیکسیاں اور نجی گاڑیوں کی آمدورفت 14 نومبر 2025 تک عارضی طور پر معطل کر دی۔یہ پابندی مقامی یا شہر کے اندر سفر پر لاگو نہیں ہوگی، تاکہ شہری اپنی روزمرہ کی ضروریات کے لیے اپنے علاقوں میں آمدورفت کر سکیں۔

محکمہ داخلہ نے تمام ضلعی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس فیصلے پر فوری عمل درآمد یقینی بنائیں اور عوام کی سہولت کے لیے متبادل انتظامات کریں۔

شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ لورالائی روٹ پر کسی بھی سفر کی منصوبہ بندی سے پہلے سرکاری سفری ہدایات کی تصدیق کر لیں تاکہ کسی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا

پشاور:

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔

شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔

بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔

مزید پڑھیں

پشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع

شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔

دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟