شاہزیب خانزادہ کے ساتھ بدتمیزی کیوں کی؟ ویڈیو بنانے والے شاہد بھٹی نے پہلی بار ساری کہانی بیان کردی
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
معروف اینکر شاہزیب خانزادہ کو بیرون ملک ہراساں کرنے والے شاہد بھٹی کی ایک ویڈیو منظرِ عام پر آ گئی ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ انہوں نے شاہزیب خانزادہ کو ہراساں نہیں کیا۔
شاہد بھٹی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ اس وقت کینیڈا میں موجود ہیں اور ان کا مقصد شاہزیب خانزادہ سے پوچھنا چاہتا تھا کہ انہوں نے اسلام کے واضح احکامات کے باوجود بشریٰ بی بی کے خلاف ایسا پروگرام کیوں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب شاہزیب خانزادہ نے بات کرنے سے انکار کیا تو انہوں نے صرف کہا کہ ’آپ کو شرم آنی چاہیے‘۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ جو ویڈیو انہوں نے ریکارڈ کی وہ بغیر کسی ترمیم کے ہے، اور اس میں انہوں نے کوئی گالی نہیں دی اور نہ ہی ہراساں کیا ہے۔ شاہد بھٹی نے کہا ’میں صرف سوالات پوچھ رہا تھا، ہراسانی نہیں کی اور نہ ہی میں نے کوئی گالی دی ہے‘۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ صحافی نہیں ہے انہوں نے پروگرام کرنے سے منع کیوں نہیں کیا انہیں پروگرام کرتے ہوئے شرم نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں: شاہزیب خانزادہ کو ہراساں کرنے والا شخص کون ہے؟
ایک سوال کے جواب میں شاہد بھٹی نے بتایا کہ وہ 64 سال کے ہیں، تحریکِ انصاف کے رکن نہیں بلکہ صرف حامی ہیں اور انہوں نے کسی بھی پارٹی کے جلسے میں شرکت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد صرف بات چیت کرنا تھا لیکن شاہزیب کے پاس کسی سوال کا کوئی جواب نہیں تھا اور وہ وہاں سے بھاگ گیا۔
شاہد بھٹی نے وفاقی وزیر اطلاعات کے حوالے سے کہا کہ عطا تارڑ نے جو کرنا ہے کر لے۔ میں ان کو جانتا ہوں کہ یہ کون ہے، یہ خاندانی چور ہیں مجھے ان کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا جیسے حسینہ واجد عبرت کا نشان بنی ہے ویسے ہی یہ بنیں گے انہیں سڑکوں پر گھسیٹا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: شاہزیب خانزادہ کے بعد طلعت حسین کو بھی ہراسانی کا سامنا، انہوں نے کیا کارروائی کی؟
واضح رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا تھا کہ شاہزیب خانزادہ کو ہراساں کرنے والے شخص کا سراغ لگا لیا ہے، اس کا تعلق گجرانوالہ سے ہے اور وہ کینڈا میں ریئل اسٹیٹ ایجنٹ اور پی ٹی آئی کا رکن ہے، انہوں نے مزید کہا کہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور مثال قائم کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شاہد بھٹی شاہزیب خانزادہ ویڈیو وائرل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شاہد بھٹی شاہزیب خانزادہ ویڈیو وائرل شاہزیب خانزادہ کو شاہد بھٹی نے انہوں نے کہا نہیں کی کہا کہ
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔