الطاف وانی کا مقبوضہ کشمیر میں مقامی آبادی پر بڑھتی ہوئی نگرانی کے اقدامات پر اظہار تشویش
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
ذرائع کے مطابق الطاف وانی نے خصوصی رپورٹر برائے حقِ پرائیویسی انیہ برائن نوگرریز کے نام خط میں کہا ہے کہ زیرحراست کشمیریوں کی جی پی ایس آلات کے ذریعے نگرانی، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور ذاتی بائیومیٹرک کا ڈیٹا جمع کرنا مداخلت کا ایک ہتھیار بن گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی توجہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مقامی آبادی کے خلاف بڑھتی ہوئی نگرانی کی مہم کی جانب مبذول کرائی ہے۔ ذرائع کے مطابق الطاف وانی نے خصوصی رپورٹر برائے حقِ پرائیویسی انیہ برائن نوگرریز کے نام خط میں کہا ہے کہ زیرحراست کشمیریوں کی جی پی ایس آلات کے ذریعے نگرانی، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور ذاتی بائیومیٹرک کا ڈیٹا جمع کرنا مداخلت کا ایک ہتھیار بن گیا ہے، جن کے ذریعے بنیادی آزادیوں کو ختم اور اپنی بے گناہی کو ثابت کرنا انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے پونچھ کے رہائشی مختار احمد کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 15نومبر کو پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج اودھمپور کی طرف سے اس کی ضمانت کی منظوری کے بعد مختار کی جی پی ایس کے ذریعے اسکی نقل و حرکت کی مسلسل نگرانی، موبائل فون کی ریکارڈنگ اور ذاتی بائیومیٹرک کا ڈیٹا جمع کرنے کا بھی حکم جاری کیا گیا ہے۔
الطاف وانی نے کہا کہ یہ اقدامات مجموعی طور پر پرائیویسی کے مکمل خاتمے کا سبب بنتے ہیں، جو بین الاقوامی قانون کے تحت بنیادی انسانی حق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نگرانی کے ان آلات کا غلط استعمال قانونی آزادی کو مستقل ریاستی کنٹرول میں بدل دیتا ہے اور بنیادی آزادیوں کو مزید نقصان پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔ انہوں نے ان اقدامات کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری نظربندوں کی الیکٹرانک نگرانی بنیادی انسانی حقوق کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔رائیویسی کے حق کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی بنیاد قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنیادی آزادیوں اور انسانی حقوق کی بحالی بین الاقوامی قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل کوویننٹ آن سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس کے آرٹیکل 17 کے تحت کسی بھی شخص کی ذاتی پرائیویسی، خاندان، گھر یا مراسلات میں غیر قانونی یا جبری مداخلت نہیں کی جانی چاہیے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں ڈیجیٹل نگرانی کے اقدامات پر آزادانہ تحقیقات کرائے اور ایسے اصلاحی اقدامات تجویز کیے جائیں جو ضروری، متناسب اور انسانی وقار کے مطابق ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: الطاف وانی نے کہا کہ کے ذریعے انہوں نے کے مطابق وانی نے گیا ہے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔