گوگل نے مراکشی سرحد سے چھیڑ چھاڑ کی تردید کردی
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
گوگل نے مراکش میں صارفین کے لیے ویسٹرن صحارا کی متنازعہ سرحد کے ڈاٹڈ لائنز ہٹانے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نقشوں پر سرحد کی یہ نمائش ہمیشہ مختلف رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عوام کے ہاتھوں گوگل میپس ٹیم کی پٹائی، مگر کیوں؟
گوگل کے ایک ترجمان نے غیر ملکی خبررساں ایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ ’ہم نے گوگل میپس پر مراکش یا ویسٹرن صحارا میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ یہ لیبلز متنازعہ علاقوں کے حوالے سے ہماری طویل مدتی پالیسی کے مطابق ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ گوگل میپس کو مراکش کے علاوہ کہیں استعمال کرنے والے صارفین ویسٹرن صحارا اور اس کی متنازعہ سرحد کے لیے ڈاٹڈ لائن دیکھتے ہیں، جبکہ مراکش میں صارفین ویسٹرن صحارا نہیں دیکھتے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپس پر کراچی کے 65 مقامات کیوں ’بدنام‘ ہوئے؟
ویسٹرن صحارا ایک وسیع معدنی وسائل سے مالا مال سابقہ ہسپانوی کالونی ہے، جو زیادہ تر مراکش کے زیر کنٹرول ہے، مگر کئی دہائیوں سے آزادی پسند تحریک پولیساریو فرنٹ نے اس پر دعویٰ کیا ہوا ہے، جسے الجزائر کی حمایت حاصل ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پہلے مراکش، پولیساریو فرنٹ، الجزائر اور موریطانیہ سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا کہا تھا تاکہ ایک جامع سمجھوتہ کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے مغربی صحارا کو مراکش کا حصہ تسلیم کر لیا
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی کوشش پر کونسل نے 2007 میں رباط کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کی حمایت کی، جس میں ویسٹرن صحارا کو مراکش کی مکمل خودمختاری کے تحت محدود خود مختاری دی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news گوگل مراکش نقشہ ویسٹرن صحارا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: گوگل مراکش ویسٹرن صحارا ویسٹرن صحارا گوگل میپس
پڑھیں:
معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں بھارت میں ہونے والے احتجاج میں شامل ایک بھارتی طالبہ اپنی ہی حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے سخت تنقید کرتی نظر آ رہی ہے۔ ویڈیو میں طالبہ کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بھارتی رافیل طیارے گرائے اور بھارتی فوجیوں کو بھی مارا ہے تاہم اس وقت بھارتی حکومت نے ان تمام دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔
Array koi baat nahi it's ok pic.twitter.com/ZwimtIcx4a
— iffi (@iffiViews) July 22, 2026
طالبہ ویڈیو میں کہتی ہے کہ اب اگر ایک سال بعد حکومت خود یہ تسلیم کر رہی ہے کہ اس دوران چھ بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے تو اس سے عالمی سطح پر یہی تاثر جائے گا کہ پاکستان کے دعوے درست تھے۔ اس صورتحال نے بھارتی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے آخر میں وہ یہ بھی کہتی ہے کہ اس کے بعد پاکستان کے سامنے بھی ہماری عزت نہیں رہی۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کی جا رہی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دیگر دعوے بھی درست تھے جبکہ کچھ صارفین نے بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حقائق چھپانے اور متضاد بیانات دینے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین آرمی بھارتی طیارے پاک آرمی پاک فوج پاکستانی فوج رافیل ویڈیو وائرل