کینیڈا نے خالصتان ریفرنڈم کی باضابطہ اجازت دیدی، سکھ رہنماگرپتونت سنگھ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ نے اعلان کیا ہے کہ کینیڈا نے خالصتان ریفرنڈم کے انعقاد کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
ان کے مطابق کینیڈین حکومت کی اجازت کے تحت 23 نومبر کو اوٹاوا کے بلنگز اسٹیٹ میں ریفرنڈم منعقد کیا جائے گا۔ گرپتونت سنگھ کا کہنا تھا کہ یہ منظوری اظہارِ رائے کی آزادی اور جمہوری اقدار کے حوالے سے کینیڈا کے عزم کی واضح علامت ہے۔ ان کے مطابق خالصتان ریفرنڈم مسلح جدوجہد کے بجائے ووٹ کی طاقت سے اپنے مطالبات کے حصول کا پُرامن راستہ ہے۔
انہوں نے سکھ برادری پر زور دیا کہ وہ پنجاب کو بھارتی تسلط سے نجات دلانے کے لیے اپنے حقِ رائے دہی کا بھرپور استعمال کریں۔
ادھر خالصتان تحریک کے حوالے سے کینیڈا کے موقف نے مودی حکومت کی اندرونی اور بیرونی پالیسیوں میں موجود کمزوریاں مزید نمایاں کر دی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔