واشنگٹن:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا جلد سعودی عرب کو جدید ترین ایف-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے فروخت کرے گا۔

اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان آج امریکا پہنچ رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے اہم معاہدوں پر بات چیت ہوگی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی عرب امریکا سے 48 ایف-35 طیاروں کی خریداری کا خواہش مند ہے جن کی مالیت کئی ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں ولی عہد کے استقبال کے لیے خصوصی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ٹرمپ اور بن سلمان کی ملاقات میں دفاعی تعاون، مصنوعی ذہانت، سول نیوکلیئر پروگرام اور باضابطہ سکیورٹی گارنٹی جیسے اہم معاملات زیرِ غور آئیں گے۔

سعودی عرب امریکا سے تحریری سیکیورٹی ضمانت چاہتا ہے جبکہ امریکی صدر مئی میں کیے گئے 600 ارب ڈالر کی سعودی سرمایہ کاری کے وعدے پورے کرنے کی کوشش میں ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں کئی اہم عالمی اور داخلی امور پر بھی اظہارِ خیال کیا اور کہا کہ ایران کی ایٹمی صلاحیت مکمل طور پر ختم کر دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غیرقانونی تارکینِ وطن کے روپ میں جرائم پیشہ افراد ملک میں داخل ہوئے ہیں، جرائم کا گڑھ بننے والے شہروں میں فوج بھیجی جا سکتی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکا میں ایک سال بعد بڑے پیمانے پر مقامی کمپیوٹر چپس کی تیاری شروع ہو جائے گی۔

امریکی صدر نے کہا کہ فیفا ورلڈکپ 2026 کے لیے امریکا خصوصی ٹاسک فورس بنا رہا ہے جبکہ رکن کانگریس مارکو روبیو ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ساتھ مل کر تیاریوں کو حتمی شکل دیں گے۔

اس موقع پر فیفا چیئرمین نے ورلڈکپ انتظامات میں امریکی تعاون پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔

داخلی سیاست پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ امریکا میں طویل ترین شٹ ڈاؤن کے ذمہ دار ڈیموکریٹس ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل