کینیڈا میں ریفرنڈم سے قبل خالصتان کار ریلی، بھارتی ہائی کمشنر کی رہائشگاہ کے باہر احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
سینکڑوں گاڑیوں پر مشتمل خالصتان کار ریلی اوٹاوا میں بھارتی ہائی کمشنر دنیش پٹ نائک کی رہائشگاہ کے باہر پہنچی۔
جہاں شرکا نے سکھوں کے خلاف بھارت کی جاری کریک ڈاؤن پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے متوقع خالصتان ریفرنڈم کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سکھوں نے کینیڈا میں بھارتی قونصلیٹ کے گھیراؤ کا اعلان کیوں کیا؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ریلی سکھس فار جسٹس کی جانب سے منظم کی گئی تھی۔
تنظیم کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے اسے ’پُرامن، بیلٹ پر مبنی جمہوریت‘ کا مظاہرہ قرار دیا۔
Ahead of the Khalistan Referendum voting, Sikhs gathered to show support in joining the
KHALISTAN REFERENDUM CAR RALLY in Ottawa.
With over 300+ cars rallying the streets of Ottawa, Pro Khalistan Sikhs have sent a strong message to India.
We will free Punjab from Indian… pic.twitter.com/hyYeCC06j8
— Inderjeet Singh (@Warrior9Singh) November 15, 2025
خالصتان ریفرنڈم 23 نومبر کو اوٹاوا کے بلنگز اسٹیٹ میں منعقد ہونے والا ہے، جسے کینیڈا کی حکومت نے باقاعدہ منظوری دے رکھی ہے۔
اس عمل کو ’بیلٹ‘ یعنی سکھ برادری کی جمہوری رائے اور ’بلٹ‘ یعنی بھارت کی جانب سے بیرونِ ملک سکھوں کے خلاف مبینہ قاتلانہ کارروائیوں کے درمیان انتخاب کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کینیڈا میں سکھوں کیخلاف انٹیلی جنس آپریشن کا حکم دیا، کینیڈا
سکھس فار جسٹس کے مطابق یہ ریفرنڈم کے سلسلے کا تسلسل ہے۔
تنظیم نے بتایا کہ مارچ 2025 میں لاس اینجلس میں ہونے والے مرحلے میں تقریباً 35 ہزار سکھوں نے ووٹ ڈالے تھے۔
مزید یہ کہ بھارتی پنجاب میں ووٹر رجسٹریشن 26 جنوری 2026 سے شروع کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: کینیڈا سے گوجرانوالہ کا سفر، سکھ نوجوان نے نانا کی خواہش پوری کردی
سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے کینیڈین حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نے جمہوری حقوق کا احترام کرتے ہوئے آرگنائزرز کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا۔
گرپتونت سنگھ پنوں کے مطابق حکومت نے سیکیورٹی کے خدشات دور کیے اور ایک ’نیشنل ہسٹورک سائٹ‘ کو ووٹنگ مقام کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی۔
مبصرین کے مطابق بھارتی ہائی کمشنر کی رہائشگاہ تک علامتی مارچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کینیڈا میں سکھ کمیونٹی تیزی سے منظم ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں: کینیڈا: سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے الزام میں 3 بھارتی شہری گرفتار
ماہرین کہتے ہیں کہ خالصتان ریفرنڈم اب ایک کمیونٹی پر مبنی سفارتی و سیاسی مہم کی صورت اختیار کر رہا ہے، جو سیاسی پیغام رسانی، عوامی مظاہروں اور عالمی سطح پر سکھ خوداختیاری کے مسئلے کو اجاگر کرنے کو یکجا کرتا ہے۔
اوٹاوا میں یہ وسیع اور نمایاں ریلی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ خالصتان تحریک کو بیرونِ ملک سکھ کمیونٹی میں اب بھی خاطرخواہ حمایت حاصل ہے۔
جبکہ یہ بھارت کی بیرونِ ملک سفارتی موجودگی کے ساتھ جاری تناؤ کو بھی نمایاں کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خالصتان ریفرنڈم سکھ سکھ کمیونٹی سیکیورٹی کار ریلی کینیڈا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خالصتان ریفرنڈم سکھ سکھ کمیونٹی سیکیورٹی کار ریلی کینیڈا خالصتان ریفرنڈم کینیڈا میں کے مطابق
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔