Daily Mumtaz:
2026-06-03@01:42:37 GMT

سرکاری ٹی وی نے 620 روپے دے کر میری توہین کی تھی: راشد محمود

اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT

سرکاری ٹی وی نے 620 روپے دے کر میری توہین کی تھی: راشد محمود

پاکستان شوبز انڈسٹری کے سینئر اداکار راشد محمود کا کہنا ہے کہ سرکاری ٹی وی نے مجھے مرثیہ پڑھنے کے 620 روپے دے کر میری توہین کی تھی، جس کے باعث میں نے احتجاجاً دوبارہ سرکاری ٹی وی کے لیے کام نہیں کیا۔

حال ہی میں مایہ ناز سینئر اداکار نے ایک پوڈکاسٹ میں بطور مہمان شرکت کی، جہاں انہوں نے مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے ماضی میں پیش آنے والا قصہ سنایا جس کی بنیاد پر انہوں نے سرکاری ٹی وی کا بائیکاٹ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان دنوں محرم الحرام کا مہینہ تھا، مجھے مرثیہ پڑھنے کے لیے پی ٹی وی نے بلایا، مرثیہ پڑھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ میرے دیگر ساتھی بھی مرثیہ پڑھتے ہیں لیکن میر انیس کا مرثیہ پڑھنا ایک مشکل کام ہے، جو میں نے پڑھا۔

راشد محمود کا کہنا تھا کہ میں مرثیہ پڑھنے کے پیسے نہیں لیتا، یہ ایک روحانی کام ہے، اس کے لیے کبھی معاوضے کی مانگ نہیں کی، اگر کسی نے خود سے دے دیا تو لے لیتا ہوں اور اگر نہیں ہوتا تو میں مانگتا نہیں ہوں۔ ایسا ہی پی ٹی وی میں بھی ہوا میں نے ان سے رقم کا تقاضہ نہیں کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایک دن میرے اسسٹنٹ نے بتایا کہ ایک چیک آیا ہوا ہے، اسے کھول کے دیکھا تو وہ 620 روپے کا چیک تھا، جسے دیکھ کر مجھے شدید غصہ آگیا، یہ رقم مجھے مرثیہ پڑھنے کے لیے دی گئی تھی، جبکہ دیگر مرثیہ پڑھنے والوں کو کہیں زیادہ معاوضہ دیا گیا تھا، جب مجھے یہ پتہ چلا تو میں نے احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔

اداکار نے کہا کہ بعدازاں پی ٹی وی انتظامیہ نے فون کرکے معافی مانگی، جس پر میں نے انہیں کہا کہ یہ غلطی نہیں تھی ایسا طویل عرصے سے ہوتا آیا ہے، میں نے کبھی ان معاملات میں دخل اندازی نہیں کی لیکن یہ میری توہین ہے اس لیے میں نے پی ٹی وی پر دوبارہ کام نہ کرنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد میں نے کبھی پی ٹی وی لاہور اسٹیشن کے ساتھ کبھی کام نہیں کیا، جہاں آپ کی عزت، آپ کا وقار ہی نہیں ہے وہاں میں کام نہیں کرسکتا لیکن تب سے لے کر اب تک اسلام آباد سینٹر میں میرے ملک سے متعلق کوئی پروگرام ہوتا ہے تو وہ میں بغیر چارچ کیے کرتا ہوں کیونکہ میری شناخت اس ملک سے پے ، میری اصل لڑائی پاکستان ٹیلی ویژن سے نہیں ان ارباب اختیار سے ہے جنہوں نے میرے ساتھ ایسا کیا۔

واضح رہے کہ راشد محمود پاکستان فلم و ٹی وی انڈسٹری کے سینئر اداکار ہیں جنہیں پرائڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سرکاری ٹی انہوں نے نہیں کی کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا