کسی کو عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائیگی،شفقت محمود
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
کسی کو عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائیگی،شفقت محمود WhatsAppFacebookTwitter 0 14 November, 2025 سب نیوز
پرائس کنٹرول مجسٹریٹ شفقت محمود نے 1865بوری آٹا افغانستان اسمگل ہونے سے روک دیا، قوم کا آٹا قوم ہی کا حق،تحصیلدار فتح جنگ
فتح جنگ (نمائندہ خصوصی) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن، کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر اٹک راؤ عاطف رضا اور اسسٹنٹ کمشنر فتح جنگ کی ہدایات کے مطابق تحصیلدار و پرائس کنٹرول مجسٹریٹ فتح جنگ چوہدری شفقت محمود متحرک،متعلقہ اداروں کے ہمراہ بڑی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے 1865 بوری آٹا افغانستان اسمگل ہونے سے بروقت روک دیا۔ سپیشل پرائس کنٹرول مجسٹریٹ چوہدری شفقت محمود اور پرائس کنٹرول انسپکٹر ثناء شبیر نے اپنی پیشہ ورانہ مستعدی، ایمانداری اور جرات کے ساتھ آٹا اسمگلنگ کی ایک بڑی کوشش کو ناکام بنا دیا۔یہ کارروائی دن کے وقت کی گئی جب اسمگلر گروہ رات کے اندھیرے کا انتظار کر رہے تھے
تاکہ آٹے کی بڑی کھیپ کو افغانستان منتقل کر سکیں۔ تاہم، بروقت خفیہ اطلاع پر دونوں افسران نے فوری طور پر ٹیم کے ہمراہ ناکہ بندی کی اور اسمگلروں کے منصوبے کو دن کی روشنی میں ہی خاک میں ملا دیا۔ساتواں میل کے قریب ایک مشکوک ٹرک کو روکا گیا۔ تلاشی لینے پر اس میں سے 1865 آٹے کے تھیلے برآمد ہوئے جو عوامی استعمال کے لیے مختص تھے۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ آٹا ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے افغانستان اسمگل کیا جانا تھا۔ٹرک کے رکنے پر ڈرائیور اور اس کے ساتھیوں نے موقع پر موجود افسران کو بھاری رشوت کی پیشکش کی، مگر چوہدری شفقت محمود نے نہایت اعتماد اور عزم کے ساتھ کہا:ریاستی فرض فروخت نہیں ہوتا، قوم کا آٹا قوم ہی کا حق ہے۔یہ جملہ وہاں موجود اہلکاروں کے لیے عزم اور دیانت کی علامت بن گیا۔ثناء شبیر نے موقع پر کارروائی کی مکمل نگرانی کی۔ انہوں نے ضبط شدہ آٹے کی گنتی اور فہرست تیار کی، شواہد محفوظ کیے اور تمام سامان کو سرکاری تحویل میں لے لیا تاکہ اسے دوبارہ عوامی تقسیم کے نظام میں شامل کیا جا سکے۔
انتظامیہ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق اشیائے خورونوش کی ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔ تحصیلدار چوہدری شفقت محمود نے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے اور کسی کو بھی عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب پرائس کنٹرول مجسٹریٹ چوہدری شفقت محمود، تحصیلدار فتح جنگ اور پرائس کنٹرول انسپکٹر میڈم ثناء شبیرنے فتح جنگ چوک، اٹک روڈ اور کوہاٹ روڈ پر اچانک چھاپے مارے۔ دوران چیکنگ ناجائز منافع خوری اور ریٹ لسٹ آویزاں نہ کرنے والے دکانداروں کو جرمانے کیے گئے، متعدد دکانوں کو وارننگ جبکہ کچھ کو سیل بھی کردیا گیا۔ اس موقع پر تحصیلدار چوہدری شفقت محمود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایات پر عوامی مفاد کے لیے یہ مہم جاری ہے، اور ذخیرہ اندوزوں، منافع خوروں اور اسمگلروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ عوام کو ریلیف اور اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعدلیہ کا کردار بڑا تاریک رہا، ان ججز کا ضمیر دہائیوں سے سویا ہوا تھا، وزیر دفاع فتح جنگ: دہی میں مردہ مکھیاں اور فریزر میں بدبودار گوشت برآمد پنجاب میں سموگ کا روگ برقرار، شہر لاہور کی فضا آج بھی آلودہ گرانفروشی ناقابل برداشت عوامی خدمت کیلئے کوشاں،چوہدری شفقت محمود پنجاب اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں قرارداد جمع پنجاب اسمبلی غیر قانونی بھرتی کیس: پرویز الہی کی خاضری معافی کی درخواست منظور پنجاب بدستور سموگ کی لپیٹ میں، گوجرانوالہ آلودہ شہروں میں پہلے نمبر پر آگیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پرائس کنٹرول مجسٹریٹ چوہدری شفقت محمود فتح جنگ کے لیے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔