کینیڈا کے سابق وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو کی سابقہ اہلیہ صوفی گریگوار نے اپنے سابق شوہر کی امریکی گلوکارہ کیٹی پیری کے ساتھ رومانس پر اپنے ردعمل کا اظہار کردیا۔

ایک پوڈ کاسٹ میں جسٹن ٹروڈو اور کیٹی پیری سے متعلق سوال کے جواب میں صوفی نے کہا کہ سابق ساتھی کا کسی نئے شخص کے ساتھ دیکھے جانا کسی کے لیے بھی بس ایک عام احساس ہوتا ہے۔

صوفی نے کہا کہ ہم انسان ہیں اور چیزیں ہمیں متاثر کرتی ہیں یہ نارمل ہے، لیکن آپ کیسے ردِعمل دیتے ہیں، یہ آپ کی اپنی چوائس ہوتی ہے، میں کوشش کرتی ہوں کہ شور کے بجائے موسیقی سنوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوامی زندگی میں موجود خبریں اور باتیں بعض اوقات ٹرگر بھی بن سکتی ہیں، مگر یہ بھی انسان ہونے کا حصہ ہے، میں ان جذبات کے ساتھ کیسے جینا چاہتی ہوں، یہ میرا فیصلہ ہے۔

انٹرویو میں صوفی کا کہنا تھا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ میرے پاس جذبات نہیں یا میں روتی، ہنستی یا غصہ نہیں کرتی، میں بہت نرم دل انسان ہوں، لیکن جذبات اور ردِعمل کے درمیان جو فیصلہ ہوتا ہے، وہ میرے ہاتھ میں ہے۔

ٹروڈو کی سابق اہلیہ نے یہ بھی کہا کہ میں خود کو مایوس ہونے دیتی ہوں، غصہ، اداسی سب محسوس کرنے دیتی ہوں، کیونکہ ایک مینٹل ہیلتھ ایڈووکیٹ کے طور پر مجھے معلوم ہے کہ ان جذبات کو محسوس کرنا کتنا ضروری ہے۔

یاد رہے کہ کیٹی پیری نے جولائی 2025 میں اورلینڈو بلوم سے علیحدگی اختیار کی تھی، انہوں نے 25 اکتوبر 2025 کو جسٹن ٹروڈو کے ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے دیکھے جانے کے بعد اپنی نئی محبت کو عوامی سطح پر ظاہر کیا تھا۔

واضح رہے کہ صوفی گریگوار اور جسٹن ٹروڈو نے 2023 میں 18 سال کی شادی کے بعد علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: جسٹن ٹروڈو کیٹی پیری کے ساتھ کہا کہ

پڑھیں:

وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان