ماضی کی معروف ہیروئن اور سینیئر اداکارہ کامنی کوشل کی آخری رسومات ادا کردی گئیں جس میں اہل خانہ، فلمی ستاروں اور ان کے مداحوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

بھارتی فلم انڈسٹری میں سات دہائیوں سے راج کرنے والی اداکارہ کامنی کوشل گزشتہ روز جہان فانی سے کوچ کر گئی تھیں۔ وہ فروری 1927 کو لاہور میں پیدا ہوئی تھیں۔

وہ عمر رسیدگی سے جڑی بیماریوں میں مبتلا تھیں۔ اہل خانہ نے ان کے انتقال کی تصدیق کی لیکن موت کی وجہ نہیں بتائی البتہ میڈیا اور مداحوں سے نجی رازداری کو برقرار رکھنے کی درخواست کی ہے۔

ان کے انتقال کی خبر نے نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ دنیا بھر میں موجود ان کے چاہنے والوں کو گہرے صدمے میں ڈال دیا۔

اداکارہ کامنی کوشل کو بالی وڈ کے سنہرے دور کی علامت سمجھا جاتا تھا اور ان کی فنکارانہ خدمات سات دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط تھیں۔

کامنی کوشل نے اپنی زندگی میں کئی مشکل اور کٹھن دور دیکھے۔ اپنی بہن کے انتقال کے بعد بھانجیوں کی پرورش کے لیے محض 21 سال کی عمر میں اپنے بہنوئی سے شادی کی۔

اداکارہ کامنی کوشل نے اپنے تین بیٹوں اور بہن کی دو بیٹیوں کی پرورش یکساں طریقے سے کی اور ان کے درمیان کبھی تفریق نہیں کی۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کامنی نے یہ شادی گھر والوں کے دباؤ پر کی تھی لیکن پھر اس رشتے کو بھرپور انداز سے نبھایا۔

کامنی کا شمار ان چند عظیم فنکاراؤں میں ہوتا ہے جنھوں نے جب ہیروئن کا کردار نبھایا تو کامیابیاں اپنے نام کیں اور جب عام کردار ادا کیے تو انھیں امر کردیا۔

کامنی کوشل نے 1946 میں فلم نیچا نگر سے کیا جو تاحال کانز فلم فیسٹیول میں پالم ڈور جیتنے والی واحد بھارتی فلم ہے۔

علاوہ ازیں ان کی کامیاب فلموں میں شہید (1948) ندیا کے پار (1948) ضدی (1948) شبنم (1949) اور آرزو (1950) شامل ہیں۔

فلموں کے علاوہ ٹی وی پروگرامز میں بالخصوص بچوں کے لیے خصوصی پروگرامز بھی پروڈیوس کیے۔

 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل اداکارہ کامنی کوشل

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی