آئندہ 5 سے 7 سال میں 95 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک : وزارت منصوبہ بندی نے آئندہ 5 سے 7 سال میں 95 ہزار سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا امکان ظاہر کردیا۔
وزارت منصوبہ بندی کی جانب سےجاری دستاریز کےمطابق روزگار کے موقع ترقیاتی منصوبوں پر عملدر آمد سےپیدا ہونگے،اکتوبر 2025 میں سی ڈی ڈبلیو پی نے 12 ترقیاتی منصوبےمنظورکئے، منصوبوں کا تعلق توانائی،پانی،زراعت، گورننس،صحت،تعلیم سمیت دیگر شعبوں سےہیں، 6 بڑے ترقیاتی منصوبے ایکنک کو بھجوا دیئے گئے۔
ویلڈن گرین شرٹس۔تھینک یو سری لنکا;چئیرمین پی سی بی محسن نقوی
دستاویز کےمطابق بڑے منصوبوں سے 2 ہزار 501 فوری نئی نوکریاں پیدا ہونے کا امکان ہے،4 ماہ میں پی ایس ڈی پی کے 1000 ارب میں سے 330 ارب کے اجراء کی منظوری دی گئی،وزارت منصوبہ بندی نے اکتوبر تک 33 فیصد فنڈز جاری بھی کردیئے،اس دوران 134 ارب روپے سے زائد کے فنڈز استعمال کئے گئے،انفراسٹرکچر کے 626 ارب کےبجٹ میں سے اکتوبر تک 46 ارب خرچ ہوئے،ٹرانسپورٹ اور مواصلات کیلئے مختص333 ارب میں سے 25 ارب 93 کروڑ خرچ ہوئے،4 ماہ کے دوران انرجی سیکٹر کا ترقیاتی خرچ 2.
پاکستان نے سری لنکا کو ہرا دیا
دستاویز کےمطابق انرجی سیکٹر کیلئے رواں مالی سال 122.65 ارب روپے مختص ہیں،فزیکل پلاننگ اور ہاؤسنگ کیلئےمختص 72.73 ارب میں سے 4.69 ارب خرچ ہوئے،پانی کیلئے مختص 97.9 ارب میں سے 12.95 ارب روپے استعمال ہوچکے،رواں مالی سال سوشل سیکٹر کیلئے 169 ارب روپےمختص کئے گئے ہیں،ایچ ای سی سمیت تعلیم کیلئے 60.75 ارب میں سے 8.97 ارب خرچ ہوئے۔
صحت و غذائیت کیلئے 16.84 ارب روپے کی گرانٹ میں سے صرف 14 کروڑ خرچ ہوئے،گورننس سیکٹر کیلئے 11.17 ارب مختص، 4ماہ میں 65 کروڑ کے اخراجات ہیں،سائنس و ٹیکنالوجی کیلئے مختص 37.59 ارب میں سے 1.69 ارب استعمال ہوئے،فارن فنڈڈ منصوبوں کیلئے مختص 25 ارب میں سے 4ماہ میں 6.3 ارب خرچ ہوئے۔
بھارتی کرکٹر کا خاتون کے خلاف ہراسمنٹ کا مقدمہ
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔