امارات ایئرلائن کا 38 ارب ڈالر کا بڑا آرڈر، بوئنگ سے مزید کتنے طیارے خریدے گی؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
دبئی کی معروف ایئرلائن امارات نے بوئنگ کے ساتھ 38 ارب ڈالر کا نیا معاہدہ کرتے ہوئے 65 اضافی بوئنگ 777ایکس طیارے خریدنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس نئے آرڈر کے بعد امارات کا بوئنگ کے ساتھ مجموعی آرڈر بک 315 وائیڈ باڈی طیاروں تک پہنچ گئی ہے، جن میں 270 بوئنگ 777ایکس، 10 بوئنگ 777 فریٹرز اور 35 بوئنگ 787 شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: 300 نئے طیاروں کی خریداری؛ ایئر انڈیا کے ایئر بس اور بوئنگ کے ساتھ مذاکرات جاری
اس معاہدے کے تحت جی ای ایرو اسپیس سے مزید 130 GE9ایکس انجن بھی خریدے جائیں گے، جس کے بعد انجنوں کی مجموعی تعداد 540 ہو جائے گی۔ یہ معاہدہ امریکی ایرو اسپیس انڈسٹری کے لیے طویل مدتی سرمایہ کاری سمجھا جا رہا ہے، جو ہزاروں اعلیٰ مہارت رکھنے والے ملازمین کے لیے روزگار کے مواقع برقرار رکھے گا۔
امارات گروپ کے چیئرمین و سی ای او شیخ احمد بن سعید المکتوم نے کہا کہ امارات پہلے ہی دنیا کی سب سے بڑی بوئنگ 777 آپریٹر ہے اور آج کے اضافی آرڈرز اس شراکت داری کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا طیارہ دبئی کے ترقیاتی منصوبوں کے مطابق ایئرلائن کی توسیعی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ امارات کو اپنے پہلے 777-9 طیاروں کی ڈیلیوری 2027 کی دوسری سہ ماہی میں ملنا شروع ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے: بوئنگ اور پیلنٹیئر کا دفاعی پیداوار میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر اشتراک
بوئنگ کے 777-10 ماڈل کے مجوزہ مطالعے پر بات کرتے ہوئے شیخ احمد نے کہا کہ ایئرلائن بڑی گنجائش والے اور زیادہ مؤثر طیاروں کی حامی ہے اور امارات 777-10 کے منصوبے کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
بوئنگ کمرشل ایئرپلینز کی سی ای او اسٹیفنی پوپ نے کہا کہ امارات کا دوبارہ اعتماد کرنا کمپنی کے لیے باعثِ فخر ہے، جبکہ جی ای ایرو اسپیس نے بھی نئے انجن آرڈر کو دہائیوں پر مبنی مضبوط اشتراک کی توثیق قرار دیا۔
امارات گزشتہ 40 برسوں میں بوئنگ 777 کے تمام ماڈل چلا چکی ہے اور آج بھی دنیا کے سب سے بڑے 777 بیڑے کی مالک ہے، جو 140 شہروں کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ نئے آرڈر کے بعد بوئنگ کی امارات کو ڈیلیوریز 2038 تک جاری رہیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امارات ایئرلائن بوئنگ طیارہ جہاز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امارات ایئرلائن بوئنگ طیارہ جہاز نے کہا کہ بوئنگ کے کے لیے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔